أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن اسود رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو قبلہ سے رخ بدل کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ح وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ لَيُقْبِلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے تو آپ کی دائیں طرف کھڑا ہونا پسند کرتے تھے تاکہ آپ ہماری طرف رخِ انور کر کے بیٹھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ، يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ قَالَ: " وَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ سَاعَةَ يُسَلِّمُ يَقُومُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَثَبَ مَكَانَهُ كَأَنَّهُ يَقُومُ عَنْ رَضْفٍ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ الْمِصْرِيُّ، وَلَهُ إِفْرَادٌ وَاللهُ أَعْلَمُ وَالْمَشْهُورُ عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا سَلَّمَ قَامَ كَأَنَّهُ جَالِسٌ عَلَى الرَّضْفِ " وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے ہلکی نماز پڑھانے والے تھے اور آپ ﷺ نماز میں اعتدال رکھتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ ﷺ سلام پھیرتے ہی کھڑے ہو جاتے تھے۔ پھر میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ بھی جب سلام پھیرتے تو جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، گویا وہ کسی گرم چیز سے کھڑے ہو رہے ہوں۔
(ب) مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرتے تو اس طرح کھڑے ہوتے کہ (شاید) آپ کسی گرم چٹان پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت بیان کی گئی کہ وہ جب سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے۔
(ب) مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرتے تو اس طرح کھڑے ہوتے کہ (شاید) آپ کسی گرم چٹان پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت بیان کی گئی کہ وہ جب سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: سَمِعْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَقَدْ يَعِيبُ عَلَى الْأَئِمَّةِ جُلُوسَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُسَلِّمُوا وَيَقُولُ: السُّنَّةُ فِي ذَلِكَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ سَاعَةَ يُسَلِّمُ " وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمَا كَرِهَاهُ، وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن زید رحمہ اللہ سے سنا، وہ ان ائمہ کی مذمت کرتے تھے جو نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اسی طرح نماز کی حالت میں ہی بیٹھے رہتے اور فرماتے تھے کہ اس مسئلہ میں سنت طریقہ تو یہ ہے کہ امام سلام پھیرنے کے بعد اٹھ جائے۔