کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بات کی دلیل کہ ہر وہ شخص جس پر صدقہ حرام ہے وہ آپ ﷺ کی آل میں سے ہے بشرطیکہ وہ بنو ہاشم کی صلبی اولاد میں سے ہو، اگرچہ وہ ان کی اولاد میں سے نہ ہو جن کا نام زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے لیا ہے
حدیث نمبر: 2859
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ، وَعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَا: لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ لِيَ وَلِلْفَضْلِ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَةِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّيَ النَّاسُ، وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُرُوجِهِمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَزْوِيجِهِمَا وَالْإِصْدَاقِ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ الْبُخَارِيُّ عَبْدُ اللهِ أَصَحُّ وَابْنُ رَبِيعَةَ هُوَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر ہم اپنے ان دو غلاموں اور فضل کے غلاموں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجیں اور رسول اللہ ﷺ ان کو اس صدقہ پر امیر بنا دیں تو یہ ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں اور انہیں بھی وہی نفع ملے گا جو دیگر لوگوں کو ملے گا، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی جو ان دونوں کے نبی ﷺ کے پاس حاضر ہونے تک ہے، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! بیشک محمد ﷺ اور آلِ محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے۔“ پھر ان دونوں کے نکاح اور حق مہر کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2859