کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: آپ ﷺ کے ان اہل بیت کی وضاحت جو آپ کی آل ہیں
حدیث نمبر: 2857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَتَمَسَّكُوا بِكِتَابِ اللهِ وَخُذُوا بِهِ" فَحَثَّ عَلَيْهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي" قَالَ حُصَيْنٌ: يَا زَيْدُ، مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ أَلَيْسَتْ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: بَلَى إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ الَّذِينَ ذَكَرَهُمْ مَنْ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ الْعَبَّاسِ قَالَ: وَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَجَرِيرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک پانی کے پاس کھڑے ہوئے جس کو «خُمًّا» ”خُم“ کہا جاتا ہے، یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”اے لوگو! سنو میں بھی بشر ہوں، قریب ہے کہ میرے پاس فرشتہ آ جائے تو میں اس کی بات سن لوں، یعنی میں اس دنیا سے چلا جاؤں، میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، اس میں رشد و ہدایت ہے۔ پس کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہو اور اس پر عمل پیرا رہو۔“ آپ ﷺ نے اس پر عمل کے لیے ابھارا اور اس کی ترغیب دی، پھر گویا ہوئے: ”اور میں اپنے اہل بیت کو تمہارے درمیان چھوڑ کر جا رہا ہوں، میں تمہیں اللہ کے لیے اپنے اہل بیت کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں۔“ حصین رحمہ اللہ نے پوچھا: اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون تھے؟ کیا ان میں آپ ﷺ کی عورتیں بھی شامل تھیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ کی عورتیں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں لیکن آپ کے اہل بیت وہ ہیں جن کے بارے آپ ﷺ نے ذکر کیا ہے کہ ان پر صدقہ حلال نہیں، حصین رحمہ اللہ نے کہا: وہ کون ہیں؟ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس رضی اللہ عنہم، حصین رحمہ اللہ نے کہا: کیا ان سب کے لیے صدقہ حلال نہیں؟ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2857
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد 19479»
حدیث نمبر: 2858
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢١٣⦘ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن صبح سویرے رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ کے جسم مبارک پر کجاووں جیسے نقش والی کالی چادر تھی۔ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بھی (چادر میں) داخل کر دیا، پھر حسین رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو بھی ساتھ داخل کر لیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنی چادر میں داخل کر دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنے ساتھ چادر میں چھپا لیا، پھر فرمایا: ”﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے نجاست کو لے جائے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2858