أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ⦗٨٣⦘ ذَنْبِهِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " آمِينَ " قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقُولُ ذَلِكَ أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”جب امام «آمِيْنَ» ”آمین“ کہے تو تم «آمِيْنَ» ”آمین“ کہو، کیونکہ فرشتے بھی «آمِيْنَ» ”آمین“ کہتے ہیں۔ جس کی «آمِيْنَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِيْنَ» ”آمین“ کے موافق ہوگئی، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نماز میں «آمِيْنَ» ”آمین“ کہا کرتے تھے۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نماز میں «آمِيْنَ» ”آمین“ کہا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ (ح)، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ الْعَنْبَسِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: " آمِينَ رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الْفَقِيهِ، وَفِي رِوَايَةِ السُّلَمِيِّ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: " وَلَا الضَّالِّينَ " قَالَ: " آمِينَ " رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ فِي الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب «آمِيْن» ”آمین“ کہتے تو اپنی آواز بلند فرماتے۔
(ب) اور سُلَمِی کی روایت میں ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہتے ہوئے سنا، آپ تو «آمِيْن» ”آمین“ بھی کہتے تھے اور نماز میں «آمِيْن» ”آمین“ کو بلند آواز سے کہتے۔
(ب) اور سُلَمِی کی روایت میں ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہتے ہوئے سنا، آپ تو «آمِيْن» ”آمین“ بھی کہتے تھے اور نماز میں «آمِيْن» ”آمین“ کو بلند آواز سے کہتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ: " غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " قَالَ: " آمِينَ " يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ وَقَالَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: رَفَعَ صَوْتَهُ بِآمِينَ وَطَوَّلَ بِهَا وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَخَالَفَهُمْ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ ﷺ نے ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہا تو فرمایا: ”آمین“ اور آمین کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کیا۔
(ب) اسی طرح وکیع بن جراح نے سفیان سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: «وَيَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ» ”کہ اپنی آواز کو آمین کہنے کے ساتھ لمبا کرتے“ اور فریابی اس حدیث میں سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے آمین کہتے وقت اپنی آواز بلند کی اور اس کو لمبا بھی کیا۔
(ب) اسی طرح وکیع بن جراح نے سفیان سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: «وَيَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ» ”کہ اپنی آواز کو آمین کہنے کے ساتھ لمبا کرتے“ اور فریابی اس حدیث میں سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے آمین کہتے وقت اپنی آواز بلند کی اور اس کو لمبا بھی کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ وَائِلٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمَّا قَرَأَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] قَالَ: آمِينَ خَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: خُولِفَ شُعْبَةُ فِيهِ فِي ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، قِيلَ: حُجْرٌ أَبُو السَّكَنِ وَهُوَ ابْنُ عَنْبَسٍ، وَزَادَ فِيهِ عَلْقَمَةَ وَلَيْسَ فِيهِ وَقَالَ: خَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ، وَإِنَّمَا هُوَ جَهَرَ بِهَا وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ، عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ ذَكَرَهُ وَقَالَ: حَدِيثُ سُفْيَانَ ⦗٨٤⦘ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا خَطَؤُهُ فِي مَتْنِهِ فَبَيِّنٌ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: حُجْرٌ أَبُو الْعَنْبَسِ فَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: عَنْ عَلْقَمَةَ فَقَدْ بَيَّنَ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ حُجْرًا سَمِعَهُ مِنْ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ سَمِعَهُ أَيْضًا مِنْ وَائِلٍ نَفْسِهِ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وائل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ جب آپ ﷺ نے ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو «آمينَ» ”آمین“ کہا اور اپنی آواز پست رکھی۔
(ب) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں تین چیزوں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مخالفت کی جائے گی: کہا گیا ہے کہ حجر ابوالسکن ہیں اور وہ ابن عنبس ہیں، انہوں نے اس میں علقمہ کا اضافہ کیا حالانکہ وہ اس میں نہیں ہیں، اور انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی آواز پست رکھی حالانکہ آپ ﷺ نے آمین کہتے ہوئے اپنی آواز بلند کی۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ اس باب میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کی سلمہ سے روایت شعبہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور شعبہ نے اس میں غلطی کی ہے، اور ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے متن میں غلطی ہو جانا واضح ہے۔ باقی رہا ان کا قول کہ حجر سے مراد ابوعنبس ہے تو اسی طرح محمد بن کثیر رحمہ اللہ نے بھی ثوری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔ رہا ان کا علقمہ سے روایت کرنا تو انہوں نے اپنی روایت میں واضح کر دیا ہے کہ حجر نے یہ حدیث علقمہ سے سنی ہے اور خود وائل رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ اور ابوالولید طیالسی نے شعبہ سے ثوری کی روایت کی طرح روایت کیا ہے۔
(ب) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں تین چیزوں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مخالفت کی جائے گی: کہا گیا ہے کہ حجر ابوالسکن ہیں اور وہ ابن عنبس ہیں، انہوں نے اس میں علقمہ کا اضافہ کیا حالانکہ وہ اس میں نہیں ہیں، اور انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی آواز پست رکھی حالانکہ آپ ﷺ نے آمین کہتے ہوئے اپنی آواز بلند کی۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ اس باب میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کی سلمہ سے روایت شعبہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور شعبہ نے اس میں غلطی کی ہے، اور ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے متن میں غلطی ہو جانا واضح ہے۔ باقی رہا ان کا قول کہ حجر سے مراد ابوعنبس ہے تو اسی طرح محمد بن کثیر رحمہ اللہ نے بھی ثوری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔ رہا ان کا علقمہ سے روایت کرنا تو انہوں نے اپنی روایت میں واضح کر دیا ہے کہ حجر نے یہ حدیث علقمہ سے سنی ہے اور خود وائل رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ اور ابوالولید طیالسی نے شعبہ سے ثوری کی روایت کی طرح روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي الْفَوَائِدِ الْكَبِيرِ لِأَبِي الْعَبَّاسِ، وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُجْرًا أَبَا عَنْبَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَالَ: " وَلَا الضَّالِّينَ " قَالَ: " آمِينَ " رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ " وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ نَحْوَ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہا تو فرمایا: «آمِينَ» ”آمین“ اور اپنی آواز کو بلند کیا۔ ثوری رحمہ اللہ کی روایت کی طرح وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے دو دوسری وجوہ بھی ذکر کی گئی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْهَرُ بِآمِينَ " وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَقَالَ: مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ، وَرَوَاهُ عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَقَالَ: رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) علقمہ بن وائل اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونچی آواز میں ”آمین“ کہتے ہوئے سنا۔
(ب) عبدالجبار والی روایت کے الفاظ یہ ہیں: «مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ» یعنی ”آپ نے آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا کیا“ اور ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں: «رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ»۔
(ب) عبدالجبار والی روایت کے الفاظ یہ ہیں: «مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ» یعنی ”آپ نے آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا کیا“ اور ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں: «رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ»۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْيَحْصِبِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] قَالَ: " رَبِّي اغْفِرْ لِي آمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جب آپ نے ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو فرمایا: ”«رَبِّ اغْفِرْ لِي آمِينَ»“ ”اے میرے رب! مجھے بخش دے، آمین۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ {غَيْرِ ⦗٨٥⦘ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] " قَالَ: آمِينَ، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
نعیم مجمر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انہوں نے ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] پڑھی، پھر سورہ فاتحہ پڑھی، یہاں تک کہ جب ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پر پہنچے تو «آمِيْن» ”آمین“ کہا، پھر نماز کے بعد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ جیسی نماز پڑھتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّبَيْدِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: آمِينَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيِّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، يُرِيدُ إِسْنَادَ هَذَا الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سلمہ اور سعید سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب سورہ فاتحہ کی قرات سے فارغ ہوتے تو اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے ”«آمِيْن»“ کہتے۔
علی بن عمر حافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے۔
علی بن عمر حافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے۔