السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: جهر الإمام بالتأمين باب: امام کے بلند آواز سے آمین کہنے کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ وَائِلٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمَّا قَرَأَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] قَالَ: آمِينَ خَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: خُولِفَ شُعْبَةُ فِيهِ فِي ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، قِيلَ: حُجْرٌ أَبُو السَّكَنِ وَهُوَ ابْنُ عَنْبَسٍ، وَزَادَ فِيهِ عَلْقَمَةَ وَلَيْسَ فِيهِ وَقَالَ: خَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ، وَإِنَّمَا هُوَ جَهَرَ بِهَا وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ، عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ ذَكَرَهُ وَقَالَ: حَدِيثُ سُفْيَانَ ⦗٨٤⦘ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا خَطَؤُهُ فِي مَتْنِهِ فَبَيِّنٌ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: حُجْرٌ أَبُو الْعَنْبَسِ فَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: عَنْ عَلْقَمَةَ فَقَدْ بَيَّنَ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ حُجْرًا سَمِعَهُ مِنْ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ سَمِعَهُ أَيْضًا مِنْ وَائِلٍ نَفْسِهِ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ.(ا) علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وائل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ جب آپ ﷺ نے ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو «آمينَ» ”آمین“ کہا اور اپنی آواز پست رکھی۔
(ب) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں تین چیزوں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مخالفت کی جائے گی: کہا گیا ہے کہ حجر ابوالسکن ہیں اور وہ ابن عنبس ہیں، انہوں نے اس میں علقمہ کا اضافہ کیا حالانکہ وہ اس میں نہیں ہیں، اور انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی آواز پست رکھی حالانکہ آپ ﷺ نے آمین کہتے ہوئے اپنی آواز بلند کی۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ اس باب میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کی سلمہ سے روایت شعبہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور شعبہ نے اس میں غلطی کی ہے، اور ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے متن میں غلطی ہو جانا واضح ہے۔ باقی رہا ان کا قول کہ حجر سے مراد ابوعنبس ہے تو اسی طرح محمد بن کثیر رحمہ اللہ نے بھی ثوری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔ رہا ان کا علقمہ سے روایت کرنا تو انہوں نے اپنی روایت میں واضح کر دیا ہے کہ حجر نے یہ حدیث علقمہ سے سنی ہے اور خود وائل رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ اور ابوالولید طیالسی نے شعبہ سے ثوری کی روایت کی طرح روایت کیا ہے۔