حدیث نمبر: 2323
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ " قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: وَصَفَ هَمَّامٌ " حِيَالَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، وَرَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَفَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبدالجبار کے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے۔
ابو عثمان کہتے ہیں: ہمام نے اس کی حالت یہ بیان کی کہ کانوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر اپنے کپڑے میں چھپا لیتے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالتے اور ان کو بلند کرتے پھر تکبیر کہتے۔ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، تب بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے اور جب سجدہ فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے۔
ابو عثمان کہتے ہیں: ہمام نے اس کی حالت یہ بیان کی کہ کانوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر اپنے کپڑے میں چھپا لیتے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالتے اور ان کو بلند کرتے پھر تکبیر کہتے۔ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، تب بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے اور جب سجدہ فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے۔
حدیث نمبر: 2324
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ قَبَضَ عَلَى شِمَالِهِ بِيَمِينِهِ " وَرَأَيْتُ عَلْقَمَةَ يَفْعَلُهُ قَالَ يَعْقُوبُ وَمُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور میں نے علقمہ کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 2325
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ " قَامَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ مِنَ السَّاعِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دل میں سوچا کہ میں ضرور رسول اللہ ﷺ پر نظر رکھوں گا کہ آپ ﷺ نماز کیسے ادا فرماتے ہیں، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں تک اٹھایا، پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا اور کلائی سے پکڑا۔
حدیث نمبر: 2326
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ " قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ يُنْمِي ذَلِكَ، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَقَالَ: قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا يُنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ”نماز میں (حالت قیام میں) اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھیں۔“
(ب) ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے یہی یا اس جیسا کلمہ کہا ہے۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کو اپنی صحیح میں قعنبی سے روایت کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: میں اس کو نہیں جانتا مگر وہ اس کی سند رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔
(ب) ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے یہی یا اس جیسا کلمہ کہا ہے۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کو اپنی صحیح میں قعنبی سے روایت کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: میں اس کو نہیں جانتا مگر وہ اس کی سند رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2327
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ پر رکھا تھا کہ نبی ﷺ نے انہیں دیکھ لیا، پھر آپ نے ان کے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 2328
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ " هُلْبٌ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ قُنَافَةَ، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍ الْكِنْدِيِّ وَشَدَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) قبیصہ بن ہلب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے دیکھا۔
(ب) ہلب کا نام یزید بن قنافہ ہے۔ حارث بن غضیف کندی اور شداد بن شرحبیل انصاری رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔
(ب) ہلب کا نام یزید بن قنافہ ہے۔ حارث بن غضیف کندی اور شداد بن شرحبیل انصاری رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2329
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا بِثَلَاثٍ، بِتَعْجِيلِ الْفِطْرِ، وَتَأْخِيرِ السَّحُورِ، وَوَضْعِ الْيَدِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ بِطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَرَّةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ الصَّحِيحَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ثَلَاثٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَذَكَرَهُنَّ مِنْ قَوْلِهَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے: 1۔ افطار میں جلدی کرنا۔ 2۔ سحری میں دیر کرنا۔ 3۔ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں، پھر انہوں نے انہی چیزوں کو ذکر کیا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں، پھر انہوں نے انہی چیزوں کو ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 2330
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا هُشَيْمٌ قَالَ مَنْصُورٌ: حَدَّثَنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " ثَلَاثٌ مِنَ النُّبُوَّةِ: تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ، وَتَأْخِيرُ السَّحُورِ، وَوَضْعُ الْيَدِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: افطاری میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیر کرنا اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔“
حدیث نمبر: 2331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: ٢] قَالَ: " هُوَ وَضْعُ يَمِينِكَ عَلَى شِمَالِكَ فِي الصَّلَاةِ " كَذَا قَالَ شَيْخُنَا عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] ”اپنے رب کی نماز پڑھ اور قربانی کر“ سے مراد نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا ہے۔
حدیث نمبر: 2332
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ فِي تَرْجَمَةِ عُقْبَةَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ سَمِعَ عَاصِمًا الْجَحْدَرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ عَلِيٍّ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: ٢] وَضْعُ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى وَسَطِ سَاعِدِهِ عَلَى صَدْرِهِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: أنبأ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ قَالَ: وَقَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ لَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَضَعَهُمَا عَلَى الْكُرْسُوعِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] ”اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ اس سے مراد اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہتھیلی کی پشت کے درمیان سینے پر رکھنا ہے۔
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کے گٹے کے کنارے پر رکھنا مراد ہے۔
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کے گٹے کے کنارے پر رکھنا مراد ہے۔
حدیث نمبر: 2333
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ ابْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيِّ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، ثنا غَزْوَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ شَدِيدَ اللُّزُومِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبَّرَ ضَرَبَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى رُسْغِهِ الْأَيْسَرِ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَرْكَعَ، إِلَّا أَنْ يَحُكَّ جِلْدًا، أَوْ يَصْلُحَ ثَوْبَهُ، فَإِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ يَلْتَفِتُ عَنْ شِمَالِهِ فَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَلَا نَدْرِي مَا يَقُولُ، ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ⦗٤٦⦘ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، ثُمَّ يُقْبِلُ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ، فَلَا يُبَالِي عَلَى يَمِينِهِ انْصَرَفَ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ " هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
حافظ ثناء اللہ
غزوان بن جریر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر باندھ لیتے، پھر اسی حالت میں رہتے، یہاں تک کہ رکوع کرتے (پھر رکوع کرنے تک اسی حالت میں رہتے) صرف حاجت کے وقت اپنے جسم کو کھجلاتے یا اپنے کپڑے درست کرتے۔ جب سلام پھیرتے تو اپنی داہنی جانب سلام پھیرتے ہوئے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» کہتے، پھر بائیں جانب سلام پھیرتے، پھر اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا پڑھتے تھے، پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اسی کی طرف سے ہے، ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔“ پھر اپنے چہرے کو لوگوں کی طرف پھیر لیتے۔
وہ اس چیز کا خیال نہیں کرتے تھے کہ دائیں طرف سے پھریں یا بائیں طرف سے (یعنی کبھی دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی بائیں طرف سے)۔
وہ اس چیز کا خیال نہیں کرتے تھے کہ دائیں طرف سے پھریں یا بائیں طرف سے (یعنی کبھی دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی بائیں طرف سے)۔
حدیث نمبر: 2334
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: " صَفُّ الْقَدَمَيْنِ، وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
زرعہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”نماز میں پاؤں کو سیدھا رکھنا اور ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔“