کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے اجتہاد سے کعبہ کی جہت (سمت) تلاش کی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“ (یہ حکم اہل مدینہ کے لیے ہے)
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " تَفَرَّدَ بِالْأَوَّلِ ابْنُ مُجَبِّرٍ، وَتَفَرَّدَ بِالثَّانِي يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْخَلَّالُ، وَالْمَشْهُورُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”(اہل مدینہ کے لیے) مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“
پہلی روایت کو بیان کرنے میں ابن مجبر منفرد ہیں اور دوسری کو بیان کرنے میں یعقوب بن یوسف خلال منفرد ہیں، اور مشہور وہ روایت ہے جسے ایک جماعت (حماد بن سلمہ، زائدہ بن قدامہ، یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ) نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔
پہلی روایت کو بیان کرنے میں ابن مجبر منفرد ہیں اور دوسری کو بیان کرنے میں یعقوب بن یوسف خلال منفرد ہیں، اور مشہور وہ روایت ہے جسے ایک جماعت (حماد بن سلمہ، زائدہ بن قدامہ، یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ) نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَاضِرِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُمَا عَنْ نَافِعٍ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا وَرُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِهِمَا، وَالْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، وَمَنْ كَانَ قِبْلَتُهُ عَلَى سَمْتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِيمَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ يَطْلُبُ قِبْلَتَهُمْ، ثُمَّ يَطْلُبُ عَيْنَهَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“
(ب) اس سے مراد اہل مدینہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ جن لوگوں کا قبلہ اہل مدینہ کی مشرق و مغرب کے درمیان ہے، پہلے ان کا قبلہ تلاش کیا جائے گا، پھر عین قبلہ کو تلاش کیا جائے گا۔
(ب) اس سے مراد اہل مدینہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ جن لوگوں کا قبلہ اہل مدینہ کی مشرق و مغرب کے درمیان ہے، پہلے ان کا قبلہ تلاش کیا جائے گا، پھر عین قبلہ کو تلاش کیا جائے گا۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ إِذَا تَوَجَّهْتَ قِبَلَ الْبَيْتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے“ جب تو قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَنْبَسَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ يَعْقُوبَ الْيَشْكُرِيُّ فِي نُخَيْلَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ، مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الدَّارِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ⦗١٦⦘ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيْتُ قِبْلَةٌ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ، وَالْمَسْجِدُ قِبْلَةٌ لِأَهْلِ الْحَرَمِ، وَالْحَرَمُ قِبْلَةٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ فِي مَشَارِقِهَا وَمَغَارِبِهَا مِنْ أُمَّتِي " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبَشِيٍّ كَذَلِكَ مَرْفُوعًا وَلَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد حرام والوں کا قبلہ بیت اللہ ہے اور اہل حرم کا قبلہ مسجد حرام ہے اور حرم میری امت کے مشرق و مغرب والے تمام اہل زمین کا قبلہ ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حفص مکی منفرد ہیں، اور وہ ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے عبداللہ بن حبشی سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حفص مکی منفرد ہیں، اور وہ ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے عبداللہ بن حبشی سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔