کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان کہ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے والی حدیث حضرت خباب وغیرہ کی حدیث کے لیے ناسخ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ثنا أَبُو زَكَرِيَّا ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ فَقَالَ لَنَا: " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَعَدَّهُ مَحْفُوظًا وَقَالَ: رَوَاهُ غَيْرُ شَرِيكٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ فَقِيلَ لَنَا أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ رَوَاهُ أَبُو عِيسَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَيَانٍ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر کے وقت (سخت گرمی میں) ادا کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”نماز کو ٹھنڈا کر لیا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے۔“
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا: میں نے محمد (امام بخاری) رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ قرار دیا۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا: میں نے محمد (امام بخاری) رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ مُعَاذِ بْنِ نَجْدَةُ ثنا خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى ثنا نَافِعٌ يَعْنِي الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنُّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدِمَ مَكَّةَ فَسَمِعَ صَوْتَ أَبِي مَحْذُورَةَ فَقَالَ: " وَيْحَهُ مَا أَشَدَّ صَوْتَهُ أَمَا يَخَافُ أَنْ يَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُهُ قَالَ: فَأَتَاهُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ: وَيْحَكَ مَا أَشَدَّ صَوْتَكَ أَمَا تَخَافُ أَنْ يَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا شَدَدْتُ صَوْتِي لِقُدُومِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنَّكَ فِي بَلْدَةٍ حَارَّةٍ فَأَبْرِدَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ أَبْرِدْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ أَذِّنْ ثُمَّ انْزِلْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ثَوِّبْ إِقَامَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے۔ انہوں نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو فرمانے لگے: اس کا ناس ہو، کتنی اونچی آواز نکالتا ہے! کیا اسے ڈر نہیں لگتا کہ اس کا گلا پھٹ جائے گا۔ پھر سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز کی اطلاع دینے کے لیے ان کے پاس آئے تو آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تیرا ناس ہو، تو کتنی سخت آواز میں اذان کہہ رہا ہے۔ کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ تیرا گلا پھٹ جائے گا؟ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے امیر المومنین! میں نے آپ کے آنے کی وجہ سے آواز میں شدت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا علاقہ گرم ہے، لہٰذا لوگوں کو تھوڑا دن ڈھلنے پر نماز پڑھایا کرو۔ یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی کہ (نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کریں)۔ پھر (جب موسم کی شدت کم ہو تو) اذان کہو، پھر اتر کر دو رکعتیں ادا کرو، پھر اقامت کہو۔