السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن خبر الإبراد بها ناسخ لخبر خباب وغيره باب: اس دلیل کا بیان کہ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے والی حدیث حضرت خباب وغیرہ کی حدیث کے لیے ناسخ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ مُعَاذِ بْنِ نَجْدَةُ ثنا خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى ثنا نَافِعٌ يَعْنِي الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنُّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدِمَ مَكَّةَ فَسَمِعَ صَوْتَ أَبِي مَحْذُورَةَ فَقَالَ: " وَيْحَهُ مَا أَشَدَّ صَوْتَهُ أَمَا يَخَافُ أَنْ يَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُهُ قَالَ: فَأَتَاهُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ: وَيْحَكَ مَا أَشَدَّ صَوْتَكَ أَمَا تَخَافُ أَنْ يَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا شَدَدْتُ صَوْتِي لِقُدُومِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنَّكَ فِي بَلْدَةٍ حَارَّةٍ فَأَبْرِدَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ أَبْرِدْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ أَذِّنْ ثُمَّ انْزِلْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ثَوِّبْ إِقَامَتَكَ ".ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے۔ انہوں نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو فرمانے لگے: اس کا ناس ہو، کتنی اونچی آواز نکالتا ہے! کیا اسے ڈر نہیں لگتا کہ اس کا گلا پھٹ جائے گا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، وہ نماز کے لیے اذان کہہ رہے تھے (یعنی دوران اذان عمر ان کے پاس تشریف لے آئے) اور کہنے لگے: تیرا ناس ہو، تو کتنی سخت آواز میں اذان کہہ رہا ہے۔ کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ تیرا گلا پھٹ جائے گا؟ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے امیر المومنین! میں نے آپ کے آنے کی وجہ سے آواز میں شدت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا علاقہ گرم ہے، لہٰذا لوگوں کو تھوڑا دن ڈھلنے پر نماز پڑھایا کرو۔ یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی کہ (نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کریں)۔ پھر (جب موسم کی شدت کم ہو تو) اذان کہو، پھر اتر کر دو رکعتیں ادا کرو، پھر اقامت کہو۔