حدیث نمبر: 2051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ أَحَدَنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَيَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ الْمَغْرِبَ، وَكَانَ لَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ " قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " قَالَ: " وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَيَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرِينَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے سے ہو کر واپس آ جاتا، لیکن سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا اور مغرب کا وقت میں بھول گیا اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات تک مؤخر کیا کرتے تھے، پھر ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر فرمانے لگے کہ آپ ﷺ اسے آدھی رات تک (مؤخر) فرماتے تھے اور عشاء سے پہلے سونے کو ناپسند فرماتے تھے، اسی طرح عشاء کے بعد (دنیاوی) باتیں کرنا بھی آپ کو ناپسند تھا۔ آپ ﷺ صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو پہچان سکتا تھا اور فجر کی نماز میں آپ ﷺ ساٹھ سے سو آیات تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا ⦗٦٤١⦘ مُسَدَّدٌ ثنا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ " يَعْنِي تَزُولُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت ادا فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2053
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا بِالظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَثْنَتْ أَبَاهَا وَلَا عُمَرَ " هَكَذَا رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر ظہر کو جلدی پڑھنے والا کوئی انسان نہیں دیکھا، انہوں نے نہ ہی اپنے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کو مستثنیٰ کیا اور نہ ہی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو۔
حدیث نمبر: 2054
وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ دُونَ قَوْلِهِ: مَا اسْتَثْنَتْ أَبَاهَا وَلَا عُمَرَ وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ قَالَهُ ابْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ وَقَدْ رَوَاهُ إِسْحَاقُ مَرَّةً عَلَى الصَّوَابِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت اسحاق ازرق سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ البتہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ انہوں نے اپنے باپ عمر رضی اللہ عنہ کو مستثنیٰ نہیں کیا، لیکن یہ ان کا وہم ہے۔ صحیح وہی ہے جسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔