کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نمازوں کو ان کے ابتدائی اوقات میں جلدی ادا کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 2042
قَالَ اللهُ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ} [الإسراء: 78] قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَدُلُوكُهَا مَيْلُهَا وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَمْرَ وَمَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ تَعَالَى {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: 238] قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْمُحَافَظَةُ عَلَى الشَّيْءِ تَعْجِيلُهُ وَقَالَ تَعَالَى {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: 14].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ﴾ ”سورج ڈھلنے کے وقت نماز قائم کرو۔“ [سورة الإسراء: 78]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «دُلُوكُهَا» سے مراد سورج کا زوال (ڈھلنا) ہے، اور یہی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کا مفہوم ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ ”سب نمازوں کی اور بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو۔“ [سورة البقرة: 238]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی چیز کی حفاظت کرنے سے مراد اسے جلدی ادا کرنا ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ ”میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔“ [سورة طه: 14]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «دُلُوكُهَا» سے مراد سورج کا زوال (ڈھلنا) ہے، اور یہی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کا مفہوم ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ ”سب نمازوں کی اور بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو۔“ [سورة البقرة: 238]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی چیز کی حفاظت کرنے سے مراد اسے جلدی ادا کرنا ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ ”میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔“ [سورة طه: 14]
حدیث نمبر: 2042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ الدُّنْيَا، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ - وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ - أَنَّهَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ لَأَوَّلِ وَقْتِهَا " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
غنام اپنی دادی ام فروہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اور یہ ان میں سے تھیں جنہوں نے نبی ﷺ سے بیعت کی تھی اور وہ پہلی مہاجرہ تھیں، انہوں نے نبی ﷺ سے سنا اور آپ ﷺ سے افضل اعمال کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اول وقت میں ادا کرنا۔“
حدیث نمبر: 2043
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ عَوْدًا عَلَى بَدْءٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِمَاكٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا " قُلْتُ: ثُمَّ أَيْ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ " قُلْتُ: ثُمَّ أَيْ؟ قَالَ: " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " وَهَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، عَنْهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ فِي مُخْتَصَرِ الْمُخْتَصَرِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ ⦗٦٣٨⦘ الْعَيْزَارِ وَرُوِيَ عَنْ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کون سے اعمال افضل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز اول وقت میں ادا کرنا۔“ میں نے کہا: پھر کون سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ میں نے کہا: پھر کون سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔“
حدیث نمبر: 2044
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ حَدَّثَنِي السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا شُعْبَةُ ثنا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی ﷺ کی نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت جب سورج چمک رہا ہوتا تھا اور مغرب کی نماز تب پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشا کی نماز، جب لوگ جلدی آ جاتے تو جلدی پڑھتے اور جب کم ہوتے تو مؤخر کر دیتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے۔
حدیث نمبر: 2045
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو أُسَامَةَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلْهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَلَسٍ حَتَّى مَاتَ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بشیر بن ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو ظہر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس وقت سورج ڈھل گیا اور بعض اوقات آپ ﷺ نے اس کو مؤخر کیا جس وقت گرمی سخت ہو جاتی اور میں نے آپ ﷺ کو عصر پڑھتے ہوئے دیکھا اور سورج بلند اور سفید ہوتا تھا، اس سے پہلے کہ اس میں زردی داخل ہو، آدمی اپنی نماز سے پھرتا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ آ جاتا اور مغرب کی نماز پڑھتے جس وقت سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز پڑھتے جس وقت کنارہ سیاہ ہو جاتا اور بعض اوقات اس کو مؤخر کیا یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک مرتبہ روشنی میں ادا کی، پھر اس کے بعد آپ ﷺ کی نماز اندھیرے میں ہوتی تھی یہاں تک کہ آپ ﷺ فوت ہو گئے، پھر آپ ﷺ روشنی کی طرف نہیں لوٹے۔“
حدیث نمبر: 2046
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لِوَقْتِهَا الْآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ اللَّيْثِ وَرَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے آخری وقت میں کبھی بھی دوسرے وقت میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی۔
حدیث نمبر: 2047
كَمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثنا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَهَذَا مُرْسَلٌ إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ وَلَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری وقت میں دو مرتبہ کے علاوہ نماز دوسرے وقت میں نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی۔
حدیث نمبر: 2048
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطٍ وَثنا ابْنُ صَاعِدٍ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَقْتُ الْأَوَّلُ رِضْوَانُ اللهِ، وَالْوَقْتُ الْآخِرُ عَفْوُ اللهِ " وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَنَا أَبُو أَحْمَدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ حُمَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ هَكَذَا كَانَ يَقُولُ لَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَالصَّوَابُ مَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ صَاعِدٍ وَابْنُ أَسْبَاطَ عَلَى أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَاطِلٌ إِنْ قِيلَ فِيهِ عَبْدُ اللهِ أَوْ عُبَيْدُ اللهِ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِيَعْقُوبَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيِّ وَيَعْقُوبُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَكَذَّبَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَسَائِرُ الْحُفَّاظِ وَنَسَبُوهُ إِلَى الْوَضْعِ نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُذْلَانِ وَقَدْ رُوِيَ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اول وقت اللہ کی رضامندی ہے اور آخری وقت اللہ کا درگزر ہے۔“ (ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی ہم مثل حدیث ہے۔ (ج) امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند میں بحث ہے۔ صحیح بات وہ ہے جو ہم نے کہی ہے، جو ابن صاعد اور ابن اسباط سے منقول ہے کہ اس حدیث کی سند باطل ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ ہے یا عبیداللہ۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یعقوب بن ولید مدنی کے ہاتھوں بنائی گئی ہے۔ یعقوب منکر الحدیث ہے اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ضعیف اور دوسروں نے روایات وضع کرنے والا لکھا ہے۔ دوسری تمام اسناد بھی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 2049
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عُمَرَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا مِنْ أَهْلِ عَبْدَسَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مَحْذُورَةَ مُؤَذِّنُ مَكَّةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي يَعْنِي أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللهِ، وَأَوْسَطُ الْوَقْتِ رَحْمَةُ اللهِ، وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللهِ " إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا هَذَا هُوَ الْعِجْلِيُّ الضَّرِيرُ يُكْنَى أَبَا إِسْحَاقَ حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ بِالْبَوَاطِيلِ، قَالَهُ لَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مَحْذُورَةَ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مَشْهُورٌ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَهُ أَصْلٌ فِي قَوْلِ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاقِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اول وقت اللہ کی رضامندی ہے اور درمیانہ وقت اللہ کی رحمت ہے اور آخری وقت اللہ کا درگزر کرنا ہے۔“ (ب) پہلے الفاظ پر یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما، جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً منقول ہے، اور یہ اقوال ثابت نہیں۔ اس کی اصل ابوجعفر کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 2050
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ثنا أَبِي عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللهِ، وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللهِ " هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ جَعْفَرٍ وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اول وقت اللہ کی رضامندی ہے اور آخری وقت اللہ کا درگزر کرنا ہے۔“