کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اذان اور اقامت کے کلمات دو دو بار کہنے کے متعلق مروی روایات کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ رَجُلًا قَامَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ فَأَذَّنَ مَثْنَى وَأَقَامَ مَثْنَى وَقَعَدَ قَعْدَةً وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا جو دیوار کے اوپر کھڑا تھا، اس نے دوہری اذان کہی اور دوہری اقامت کہی، پھر وہ بیٹھ گیا، اس پر دو سبز چادریں تھیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا الْمَسْعُودِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: " أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي رُؤْيَا عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَذَكَرَ الْأَذَانَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: فِي آخِرِ أَذَانِهِ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ أَمْهَلَ شَيْئًا ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ وَقِيلَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز تین حالتوں میں تبدیل کی گئی، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کی حدیث بیان کی اور دو دو مرتبہ اذان ذکر کی، پھر اذان کے آخر میں کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پھر تھوڑی دیر رکے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور اسی کی مثل کہا، مگر «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی“ کے الفاظ زیادہ کہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ثنا ابْنُ ⦗٦١٩⦘ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ فِي رُؤْيَا هُوَ كَذَلِكَ رَوَاهُ شَرِيكٌ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: اسْتَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأَذَانِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ثُمَّ أَقَامَ مَثْنَى مَثْنَى..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے اذان کے متعلق مشورہ لیا۔۔۔ پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ انہوں نے اذان دو دو مرتبہ کہی، پھر بیٹھ گئے، پھر دو دو مرتبہ اقامت کہی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَهُوَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ ابْنُ فُضَيْلٍ وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَالْحَدِيثُ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي إِسْنَادِهِ مُرْسَلٌ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا وَلَا عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ وَلَمْ يُسَمِّ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْهُمَا وَلَا عَنْ أَحَدِهِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَلَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ صَاحِبِ الْأَذَانِ فَغَيَرُ جَائِزٍ أَنْ يُحْتَجَّ بِخَبَرٍ غَيْرِ ثَابِتٍ عَلَى أَخْبَارٍ ثَابِتَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ أَخْبَارٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَأَمْثَلُ إِسْنَادٍ رُوِيَ فِي تَثْنِيَةِ الْإِقَامَةِ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ⦗٦٢١⦘ وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكُلُّ أَذَانٍ رَوَى ثُنَائِيَّةً فَهُوَ بَعْدَ رُؤْيَا عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ فَيَكُونُ أَوْلَى مِمَّا رُوِيَ فِي رُؤْيَاهُ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي كَيْفِيَّةِ رُؤْيَاهُ فِي الْإِقَامَةِ فَالْمَدَنِيُّونَ يَرْوُونَهَا مُفْرَدَةً وَالْكُوفِيُّونَ يَرْوُونَهَا ⦗٦٢٢⦘ مَثْنَى مَثْنَى وَإِسْنَادُ الْمَدَنِيِّينَ مَوْصُولٌ وَإِسْنَادُ الْكُوفِيِّينَ مُرْسَلٌ وَمَعَ مَوْصُولِ الْمَدَنِيِّينَ مُرْسَلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَهُوَ أَصَحُّ التَّابِعِينَ إِرْسَالًا ثُمَّ مَا رُوِّينَا مِنَ الْأَمْرِ بِالْإِفْرَادِ بَعْدَهُ وَفِعْلُ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حصین نے ہمیں بیان کیا ہے۔ (ب) محدثین کی ایک جماعت نے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ (ج) یہ حدیث اپنی سند میں اختلاف کے باوجود مرسل ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو پایا اور نہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو، اور نہ ہی انہوں نے اس شخص کا نام لیا جس نے ان دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے انہیں یہ حدیث بیان کی۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور نہ صاحبِ اذان سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے، لہٰذا غیر ثابت روایت کو ثابت روایات کے مقابلے میں دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس باب میں دوسری سندوں سے بھی روایات آئی ہیں جو سب ضعیف ہیں، میں نے ان کا ضعف الخلافیات میں بیان کر دیا ہے۔ اقامت کو دو دو مرتبہ کہنے کے بارے میں سب سے بہتر سند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث ہے، اور اگر وہ صحیح بھی ہو تو ہر وہ اذان جو دو دو مرتبہ روایت کی گئی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بعد کی ہے، تو وہ ان کے خواب میں مروی کیفیت سے اولیٰ ہوگی، جبکہ ان کے خواب میں اقامت کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے: اہل مدینہ اسے مفرد روایت کرتے ہیں اور اہل کوفہ دو دو مرتبہ۔ اہل مدینہ کی سند موصول ہے اور اہل کوفہ کی سند مرسل، اور اہل مدینہ کی موصول روایت کے ساتھ سعید بن مسیب کی مرسل روایت بھی ہے جو تابعین میں سب سے زیادہ صحیح مرسل روایت کرنے والے ہیں، پھر اس کے بعد مفرد کہنے کا وہ حکم ہے جو ہم نے روایت کیا ہے، اور اہل حرمین کا عمل بھی۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور نہ صاحبِ اذان سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے، لہٰذا غیر ثابت روایت کو ثابت روایات کے مقابلے میں دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس باب میں دوسری سندوں سے بھی روایات آئی ہیں جو سب ضعیف ہیں، میں نے ان کا ضعف الخلافیات میں بیان کر دیا ہے۔ اقامت کو دو دو مرتبہ کہنے کے بارے میں سب سے بہتر سند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث ہے، اور اگر وہ صحیح بھی ہو تو ہر وہ اذان جو دو دو مرتبہ روایت کی گئی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بعد کی ہے، تو وہ ان کے خواب میں مروی کیفیت سے اولیٰ ہوگی، جبکہ ان کے خواب میں اقامت کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے: اہل مدینہ اسے مفرد روایت کرتے ہیں اور اہل کوفہ دو دو مرتبہ۔ اہل مدینہ کی سند موصول ہے اور اہل کوفہ کی سند مرسل، اور اہل مدینہ کی موصول روایت کے ساتھ سعید بن مسیب کی مرسل روایت بھی ہے جو تابعین میں سب سے زیادہ صحیح مرسل روایت کرنے والے ہیں، پھر اس کے بعد مفرد کہنے کا وہ حکم ہے جو ہم نے روایت کیا ہے، اور اہل حرمین کا عمل بھی۔