❮
❯
حدیث نمبر: 1978
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَهُوَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ ابْنُ فُضَيْلٍ وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَالْحَدِيثُ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي إِسْنَادِهِ مُرْسَلٌ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا وَلَا عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ وَلَمْ يُسَمِّ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْهُمَا وَلَا عَنْ أَحَدِهِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَلَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ صَاحِبِ الْأَذَانِ فَغَيَرُ جَائِزٍ أَنْ يُحْتَجَّ بِخَبَرٍ غَيْرِ ثَابِتٍ عَلَى أَخْبَارٍ ثَابِتَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ أَخْبَارٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَأَمْثَلُ إِسْنَادٍ رُوِيَ فِي تَثْنِيَةِ الْإِقَامَةِ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ⦗٦٢١⦘ وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكُلُّ أَذَانٍ رَوَى ثُنَائِيَّةً فَهُوَ بَعْدَ رُؤْيَا عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ فَيَكُونُ أَوْلَى مِمَّا رُوِيَ فِي رُؤْيَاهُ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي كَيْفِيَّةِ رُؤْيَاهُ فِي الْإِقَامَةِ فَالْمَدَنِيُّونَ يَرْوُونَهَا مُفْرَدَةً وَالْكُوفِيُّونَ يَرْوُونَهَا ⦗٦٢٢⦘ مَثْنَى مَثْنَى وَإِسْنَادُ الْمَدَنِيِّينَ مَوْصُولٌ وَإِسْنَادُ الْكُوفِيِّينَ مُرْسَلٌ وَمَعَ مَوْصُولِ الْمَدَنِيِّينَ مُرْسَلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَهُوَ أَصَحُّ التَّابِعِينَ إِرْسَالًا ثُمَّ مَا رُوِّينَا مِنَ الْأَمْرِ بِالْإِفْرَادِ بَعْدَهُ وَفِعْلُ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) حصین نے ہمیں بیان کیا ہے۔ (ب) محدثین کی ایک جماعت نے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ (ج) یہ حدیث اپنی سند میں اختلاف کے باوجود مرسل ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو پایا اور نہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو، اور نہ ہی انہوں نے اس شخص کا نام لیا جس نے ان دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے انہیں یہ حدیث بیان کی۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے نہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور نہ صاحبِ اذان سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے، لہٰذا غیر ثابت روایت کو ثابت روایات کے مقابلے میں دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس باب میں دوسری سندوں سے بھی روایات آئی ہیں جو سب ضعیف ہیں، میں نے ان کا ضعف الخلافیات میں بیان کر دیا ہے۔ اقامت کو دو دو مرتبہ کہنے کے بارے میں سب سے بہتر سند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث ہے، اور اگر وہ صحیح بھی ہو تو ہر وہ اذان جو دو دو مرتبہ روایت کی گئی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بعد کی ہے، تو وہ ان کے خواب میں مروی کیفیت سے اولیٰ ہوگی، جبکہ ان کے خواب میں اقامت کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے: اہل مدینہ اسے مفرد روایت کرتے ہیں اور اہل کوفہ دو دو مرتبہ۔ اہل مدینہ کی سند موصول ہے اور اہل کوفہ کی سند مرسل، اور اہل مدینہ کی موصول روایت کے ساتھ سعید بن مسیب کی مرسل روایت بھی ہے جو تابعین میں سب سے زیادہ صحیح مرسل روایت کرنے والے ہیں، پھر اس کے بعد مفرد کہنے کا وہ حکم ہے جو ہم نے روایت کیا ہے، اور اہل حرمین کا عمل بھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1978
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»