حدیث نمبر: 1875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا ⦗٥٨٨⦘ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: " ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ رَكِبَ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ مُدْرَجًا، وَفِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُقَالُ: هَذَا الْقَدْرُ مِنَ الْحَدِيثِ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے حج کے متعلق خبر دی، اس میں ہے پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی، ظہر کی نماز ادا کی، پھر اقامت کہی اور عصر کی نماز پڑھی اور ان کے درمیان کچھ نہیں پڑھا، پھر سوار ہوئے اور جب مزدلفہ آئے تو وہ نبی ﷺ کو مراد لے رہے تھے، آپ ﷺ نے دو اقامتوں اور ایک اذان سے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ اس حدیث میں ادراج ہے۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ اس حدیث میں ادراج ہے۔
حدیث نمبر: 1876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَةَ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَإِقَامَتَيْنِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ أَسْنَدَهُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ وَوَافَقَ حَاتِمًا عَلَى إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ لِي أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ: أَخْطَأَ حَاتِمٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ كَمَا رَوَاهُ حَاتِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مقامِ عرفہ پر ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی، اور مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی اور ان کے درمیان کوئی (کوئی) نماز نہیں پڑھی۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حاتم بن اسماعیل نے بیان کی ہے اور امام حاتم نے اس کی موافقت کی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھی۔ (ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ حاتم نے اس لمبی حدیث میں غلطی کی ہے۔ (د) شیخ فرماتے ہیں کہ حاتم کی روایت کی طرح حفص بن غیاث عن جعفر والی روایت بھی ہے۔
حدیث نمبر: 1877
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَعْدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ " وَرُوِيَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مغرب اور عشا کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی۔
حدیث نمبر: 1878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ بِمِصْرَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَلَمْ يُنَادِ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَّا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو جمع کیا اور ہر ایک میں اذان نہیں دی صرف اقامت کہی اور ان کے درمیان نفلی نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی ان کے بعد کچھ پڑھا۔
حدیث نمبر: 1879
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٥٨٩⦘ حَنْبَلٍ ثنا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِمَعْنَاهُ قَالَ: وَبِإِقَامَةٍ إِقَامَةٍ جَمَعَ بَيْنَهُمَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: قَالَ وَكِيعٌ: صَلَّى كُلَّ صَلَاةٍ بِإِقَامَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ اسی معنی میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک ایک اقامت کے ساتھ دونوں جمع کیا۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہر نماز ایک اقامت سے پڑھی۔
حدیث نمبر: 1880
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا شَبَابَةُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا قَالَ مَخْلَدٌ: قَالَ: لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا هَكَذَا رِوَايَةُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ وَهِيَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ عَنِ ابْنِ عَمْرٍو رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
حماد نے اسی معنی میں بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی اور شروع میں اذان نہیں دی اور نہ ہی ان کے بعد نفلی نماز پڑھی۔ (ب) مخلد کہتے ہیں کہ دونوں کے لیے اذان نہیں کہی۔ اسی طرح سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح ترین روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1881
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا وَرَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثَ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِمَعْنَاهُ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے، انہوں نے ایک اقامت کے ساتھ مغرب کی تین اور عشا کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا: ”اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ پر ہمیں نماز پڑھائی تھی۔“
(ب) صحیح مسلم میں سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اسی کے ہم معنی روایت منقول ہے۔
(ب) صحیح مسلم میں سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اسی کے ہم معنی روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1882
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ مِنْ أَصْلِهِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ خَالِدٍ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مالک ازدی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ جگہ پر مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں۔ انہیں مالک بن خالد نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جگہ پر ایک اقامت کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 1883
وَرَوَاهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، فَخَالَفَ غَيْرَهُ فِي مَتْنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔
حدیث نمبر: 1884
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ⦗٥٩٠⦘ الضَّبِّيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ صَلَاتَيْنِ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ جَمِيعًا فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ مَالِكٍ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا أَبَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ؟ قَالَ: " صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ " رِوَايَةُ الثَّوْرِيِّ وَشَرِيكٍ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِهِمَا رِوَايَةَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ يُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ مُوَافِقَةً لِرِوَايَةِ سَالِمٍ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ أَرَادَ إِقَامَةً وَاحِدَةً لِكُلِّ صَلَاةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ إِسْرَائِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ اکٹھی نمازیں ادا کیں، خالد بن مالک نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: اس جگہ پر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (اسی طرح) نمازیں ادا کیں۔
حدیث نمبر: 1885
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُسَدَّدٌ ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ثنا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَقْبَلَتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عِلَاجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هَكَذَا وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُمَا صَلَّيَا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ مَفْصُولَتَيْنِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) اشعث بن سلیم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا، ہم مسلسل «اَللّٰہُ اَکْبَرُ» اور «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ» کا ذکر کرتے ہوئے مزدلفہ تک آئے، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی یا کسی شخص کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر انہوں نے ہمیں مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، پھر عشا کی نماز ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر رات کا کھانا منگوایا۔ (ب) علاج بن عمرو کی حدیث میں ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی۔ (ج) سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عشا کے وقت میں دو نمازیں الگ الگ ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھیں۔
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ أَحَدَهُمَا صَحِبَ عُمَرَ وَالْآخَرَ صَحِبَ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ، عَنْهُمَا فَذَكَرَا، عَنْهُمَا أَنَّهُمَا لَمْ يُصَلِّيَا الْمَغْرِبَ حَتَّى نَزَلَا جَمْعًا فَصَلَّيَا الْمَغْرِبَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ تَمَشَّيَا ثُمَّ صَلَّيَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
اسود اور عبد الرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور دوسرا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ دونوں نے ذکر کیا کہ ان دونوں حضرات نے عشا کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ مزدلفہ میں پڑاؤ ڈالا، پھر انہوں نے ایک اذان اور ایک اقامت سے مغرب کی نماز پڑھی، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر دونوں نے ایک اذان اور ایک اقامت سے (عشا کی) نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 1887
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ ثنا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَى مَكَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: " ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا فَصَلَّى بِنَا الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعِشَاءُ بَيْنَهُمَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلا، فرماتے ہیں کہ پھر ہم مزدلفہ آئے تو انہوں نے ہمیں دو نمازیں پڑھائیں، ہر نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی اور کھانا ان دو نمازوں کے درمیان کھایا۔
حدیث نمبر: 1888
وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ ⦗٥٩١⦘ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ أَمَرَ، أُرَى شَكَّ زُهَيْرٌ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ رَكْعَتَيْنِ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: حَجَّ عَبْدُ اللهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَذَكَرَ فِيهِ مَا قَدَّمْنَا ذِكِرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر مغرب کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر رات کا کھانا منگوایا، پھر حکم دیا (میرا گمان ہے کہ زہیر کو شک ہوا) پھر انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر عشا کی دو رکعتیں ادا کیں۔
حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى إِمْلَاءً أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الزَّمْهَرَانِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّاهُمَا جَمِيعًا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ " كَذَا رَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَجَابِرٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں، دونوں نمازیں ایک اذان اور ایک اقامت سے اکٹھی ادا کی گئیں۔
حدیث نمبر: 1890
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُزْدَلِفَةَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَصَلَاةَ الْعِشَاءِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَذْكُرِ الْأَذَانَ " حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ فَذَكَرَهُ وَالْحَسَنُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سے پڑھی اور اذان کا ذکر نہیں کیا۔