أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ثنا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ عَلِيٌّ: وَحَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ سَوَادَةَ ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنْتُ بِالْفَجْرِ فَجَاءَ بِلَالٌ يُقِيمُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے فجر کی اذان دی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے، وہ اقامت کہنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔“
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے جس کی سند میں ضعف ہے۔
اس کا ایک شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے جس کی سند میں ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَمِيلٍ ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ ثنا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِيُّ ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَطَلَبُوا بِلَالًا فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَذَّنَ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَقَالَ الْقَوْمُ: إِنَّ رَجُلًا قَدْ أَذَّنَ فَمَكَثَ الْقَوْمُ هُوَ نَائِمٌ إِنَّ بِلَالًا أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْلًا يَا بِلَالُ فَإِنَّمَا يُقِيمُ مَنْ أَذَّنَ " تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو وہ نہ ملے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور اذان دی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے کہا: اذان ایک دوسرے شخص نے دی ہے، اور لوگ ٹھہرے رہے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”اے بلال! رک جا، اقامت وہی کہے جو اذان دے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن راشد منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن راشد منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا الْحُمَيْدِيُّ ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا مَحْذُورَةَ جَاءَ وَقَدْ أَذَّنَ إِنْسَانٌ قَبْلَهُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ " ⦗٥٨٧⦘ وَهَذَا إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ شَاهِدٌ لَمَّا تَقَدَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ آئے اور ان سے پہلے کسی شخص نے اذان دے دی پھر انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔
اس کی سند صحیح ہے اور یہ پچھلی روایت کی شاہد ہے۔
اس کی سند صحیح ہے اور یہ پچھلی روایت کی شاہد ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ: وَجَاءَ عَمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَى الرُّؤْيَا وَيُؤَذِّنُ بِلَالٌ؟ قَالَ: " فَأَقِمْ أَنْتَ " فَأَقَامَ عَمِّي " هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَرَوَاهُ مَعْنٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْوَاقِفِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن محمد انصاری اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے خواب میں اذان کا طریقہ دیکھا، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو یہ بات بتلائی، فرماتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور میرے چچا نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بھی خواب دیکھا اور بلال رضی اللہ عنہ اذان دے رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اقامت کہہ،“ پھر میرے چچا نے اقامت کہی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس میں نظر ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس میں نظر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ كَيْفَ رَأَيْتُ الْأَذَانَ فَقَالَ: " أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى مِنْكَ صَوْتًا " فَلَمَّا أَذَّنَ بِلَالٌ نَدِمَ عَبْدُ اللهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ " هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الْعُمَيْسِ وَرُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ كَذَلِكَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ بِمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن زید اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے کس طرح اذان دیکھی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلال (رضی اللہ عنہ) کو سکھا دے، اس کی آواز تجھ سے زیادہ ہے۔“ جب بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے، انہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی۔
ابوبکر احمد بن اسحاق بن ایوب فقیہ رحمہ اللہ اس حدیث کو پہلے ذکر کی گئی وجہ سے ضعیف قرار دیتے تھے۔
ابوبکر احمد بن اسحاق بن ایوب فقیہ رحمہ اللہ اس حدیث کو پہلے ذکر کی گئی وجہ سے ضعیف قرار دیتے تھے۔
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمُومَةٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ مَرِيضًا يَوْمَئِذٍ وَالْأَنْصَارُ تَزْعُمُ أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَلَوْ صَحَّ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَصَحَّ حَدِيثُ الصُّدَائِيِّ كَانَ الْحُكْمُ لِحَدِيثِ الصُّدَائِيِّ لِكَوْنِهِ بَعْدَ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عمیر بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو میرے چچاؤں نے، جو انصاری تھے اور نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، بیان فرمایا کہ نبی ﷺ نے اہتمام کیا۔۔۔ اس میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ان دنوں میں بیمار تھے اور انصار کا خیال ہے کہ اگر وہ بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ انہیں مؤذن بنا دیتے۔