کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: طلوعِ فجر سے پہلے نمازِ صبح کے لیے اذان دینے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 1784
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ بِالطَّابَرَانَ أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ ⦗٥٥٩⦘ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ: لَهُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَأَرْسَلَهُ الشَّافِعِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الرُّوَاةِ عَنْ مَالِكٍ وَالْحَدِيثُ فِي الْأَصْلِ مَوْصُولٌ وَقَدْ وَصَلَهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مَالِكٍ مِنْهُمُ ابْنُ وَهْبٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ وَوَصَلَهُ أَيْضًا جَمَاعَةٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے۔“
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا صحابی تھے، وہ اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا کہ تو نے صبح کر دی، تو نے صبح کر دی۔
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا صحابی تھے، وہ اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا کہ تو نے صبح کر دی، تو نے صبح کر دی۔
حدیث نمبر: 1785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " قَالَ يُونُسُ فِي الْحَدِيثِ: وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ هُوَ الْأَعْمَى الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى كَانَ يُؤَذِّنُ مَعَ بِلَالٍ قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ وَلَمْ يَكُنْ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ لَهُ النَّاسُ حِينَ يَنْظُرُونَ إِلَى بُزُوغِ الْفَجْرِ: أَذِّنْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنِ اللَّيْثِ وَعَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ وَهْبٍ دُونَ الْقِصَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔“
یونس کی روایت میں ہے: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ أَن جَاءَهُ الْأَعْمَى﴾ [سورة عبس: 1-2]، وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مؤذن تھے۔ سالم کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ خراب تھی، وہ اذان اس وقت کہتے جب لوگ فجر کے طلوع ہونے کو دیکھ لیتے تو ان سے کہتے: ”اذان دو۔“
یونس کی روایت میں ہے: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ أَن جَاءَهُ الْأَعْمَى﴾ [سورة عبس: 1-2]، وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مؤذن تھے۔ سالم کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ خراب تھی، وہ اذان اس وقت کہتے جب لوگ فجر کے طلوع ہونے کو دیکھ لیتے تو ان سے کہتے: ”اذان دو۔“
حدیث نمبر: 1786
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ بلال رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتا ہے، پس کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے۔“
حدیث نمبر: 1787
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا أَبُو الرَّبِيعِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٥٦٠⦘ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدِهِ يَعْنِي مُعْتَرِضًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں تمہاری سحریوں سے دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ کنارے میں سیدھی پھیلنے والی سفیدی، یہاں تک کہ اس طرح پھیل جائے“ اور حماد نے اپنے ہاتھ سے اس کی کیفیت بیان کی ہے، یعنی لمبائی کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 1788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُّوشَا بِأَسْدَابَادَ هَمْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيُّ يُحَدِّثُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ أَذَانُ صَلَاةِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ: " لَا " حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلِيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ قَالَ: " هَلْ مِنْ مَاءٍ يَا أَخَا صُدَاءٍ؟ " فَقُلْتُ: لَا إِلَّا شَيْءٌ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلْهُ فِي إِنَاءٍ ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ " فَفَعَلْتُ فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ، قَالَ الصُّدَائِيُّ: فَرَأَيْتُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ عَيْنًا تَفُورُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّي لَسَقَيْنَا وَأَسْقَيْنَا نَادِ بِأَصْحَابِي مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْمَاءِ " فَنَادَيْتُ فِيهِمْ فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَى الصَّلَاةِ " فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " قَالَ الصُّدَائِيُّ: فَأَقَمْتُ الصَّلَاةَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ مُخْتَصَرًا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنْتُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اسلام پر بیعت کی۔۔۔، فرماتے ہیں کہ جب صبح کی اذان کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ کو حکم دیا، میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اقامت کہوں؟“ رسول اللہ ﷺ مشرقی کنارے کی طرف فجر کو دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک فجر طلوع نہ ہو جائے۔“ رسول اللہ ﷺ اترے، آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی، پھر میری طرف پھرے اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ملے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صداء کے بھائی! کیا تیرے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، تھوڑا سا ہے، جو آپ کو کافی نہیں ہو گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو برتن میں انڈیل کر میرے پاس لا۔“ میں نے ایسے ہی کیا، آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پانی میں رکھی۔ صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمہ پھوٹا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اپنے رب سے حیا نہ کرتا تو ہم پیتے اور پلاتے، میرے صحابہ کو آواز دے جس کو پانی کی ضرورت ہے (وہ لے لے)۔“ میں نے انہیں آواز دی تو پانی لیا جس نے چاہا، پھر رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو ان سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔“ صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نماز کی اقامت کہی۔