کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بئرِ بضاعہ (بضاعہ نامی کنویں) کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 1260
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: " أَمَّا حَدِيثُ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَإِنَّ بِئْرَ بُضَاعَةَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَاسِعَةٌ كَانَ يُطْرَحُ فِيهَا مِنَ الْأَنْجَاسِ مَا لَا يُغَيِّرُ لَهَا لَوْنًا وَلَا طَعْمًا وَلَا يَظْهَرُ لَهُ فِيهَا رِيحٌ فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ يُطْرَحُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجِيبًا: " الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " وَبَيَّنَ أَنَّهُ فِي الْمَاءِ مِثْلُهَا إِذْ كَانَ مُجِيبًا عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بضاعہ کنویں والی حدیث جس میں ہے کہ بضاعہ کنویں میں بہت زیادہ گہرا پانی ہوتا تھا اور اس میں گندگیاں پھینکی جاتی تھیں جو اس کے رنگ اور ذائقے کو تبدیل نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی اس میں بدبو ظاہر ہوتی تھی۔ نبی ﷺ سے کہا گیا: آپ بضاعہ کنویں سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں اس طرح کی چیزیں پھینکی جاتی ہیں؟ نبی ﷺ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ اس سے واضح ہو گیا کہ وہ پانی میں اسی طرح تھا، جس طرح آپ ﷺ نے اس کے متعلق جواب دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1260
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ⦗٤٠١⦘ قَالَ: قَالَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا، فَقَالَ: " أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ، قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَدَّرْتُ بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتْحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: لَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ..
حافظ ثناء اللہ
قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قَیِّم سے بئرِ بضاعہ کی گہرائی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: زیادہ سے زیادہ پانی ناف تک تھا۔ میں نے کہا: کم سے کم؟ انہوں نے کہا: شرمگاہ سے اوپر۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بئرِ بضاعہ کا میں نے اپنی چادر سے اندازہ لگایا، میں نے اس کو اس پر پھیلایا پھر اس کی پیمائش کی تو اس کا عرض چھ ہاتھ تھا۔ جس شخص نے میرے لیے دروازہ کھولا تھا میں نے اس سے سوال کیا تو وہ مجھے اس کنویں پر لے کر گیا، میں نے پوچھا: کیا اس کی بنیادیں تبدیل کر دی گئی ہیں جس پر وہ پہلے تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے اس میں پانی دیکھا جس کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1261
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»