کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: انسان کے تھوک اور رینٹ (ناک کی رطوبت) کے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1200
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " بَزَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ يَعْنِي وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ⦗٣٨٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْفِرْيَابِيِّ، وَفِي حَدِيثِ قَبِيصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفِرْيَابِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا۔
(ب) قبیصہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا۔
(ب) قبیصہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا۔
حدیث نمبر: 1201
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ وَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَقَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا، ثُمَّ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ " قَالَ يَزِيدُ: وَأَرَانَا حُمَيْدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی جانب تھوک دیکھا تو اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا اور آپ ﷺ نے غصے میں فرمایا: ”جب بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے اور قبلہ کے درمیان اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، جب تم میں سے کوئی تھوکے تو وہ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدموں کے نیچے تھوکے یا اس طرح کرے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور اسے مسل دیا۔ یزید راوی کہتے ہیں کہ حمید نے ہمیں کر کے دکھایا۔
حدیث نمبر: 1202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَزَادَتَيِ الْمُشْرِكَةِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ فَمَضْمَضَ فِي الْمَاءِ وَأَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالَى، ثُمَّ قَالَ: لِلنَّاسِ: " اشْرَبُوا وَاسْتَقُوا " مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے، پھر مشرکہ عورت کے مٹکوں والی لمبی حدیث بیان کی۔ رسول اللہ ﷺ نے برتن منگوایا، آپ نے مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا، پانی میں کلی کی، پھر اس (پانی) کو مٹکوں کے منہ میں ڈال دیا، پھر ان کے منہ بند کر دیے، پھر ان مشکیزوں کو چھوڑ دیا، پھر لوگوں سے کہا: ”خود بھی پیو اور (جانوروں کو بھی) پلاؤ۔“
حدیث نمبر: 1203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ يَتَوَضَّئُونَ بِفَضْلِ سِوَاكِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو حکم دیتے تھے کہ مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرو۔