کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: انسان کے پسینے کے پاک ہونے کا بیان، خواہ وہ کسی بھی حصے کا ہو
حدیث نمبر: 1198
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ ثَمَّ، قَالَ: فَأَتَتْ يَوْمًا فَقِيلَ لَهَا: هُوَ هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِكِ فَانْتَهَتْ إِلَيْهِ وَقَدْ عَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا وَذَلِكَ فِي الْحَرِّ فَأَخَذَتْ قَارُورَةً فَجَعَلَتْ تَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ الْعَرَقِ فَجَعَلَتْهُ فِي الْقَارُورَةِ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا تَصْنَعِينَ؟ " فَقَالَتْ: بَرَكَتُكَ يَا رَسُولَ اللهِ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَبْتِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حُجَيْنِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمَاجِشُونِ بِمَعْنَاهُ، وَرَوَاهُ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَرَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر آتے تھے اور ان کے بستر پر سوتے تھے اور وہ نہیں۔۔۔ پھر فرمایا: ایک دن انہیں بلا کر کہا گیا: یہ رسول اللہ ﷺ آپ کے بستر پر ہیں۔ وہ آپ ﷺ کے پاس پہنچی اور آپ ﷺ کو بہت زیادہ پسینہ آیا ہوا تھا اور یہ گرمی کے موسم میں تھا۔ انہوں نے چھوٹی شیشی لی تو وہ پسینے سے لینا شروع ہوئیں اور اس کو شیشی میں بھر رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ اس کا کیا کرو گی؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی برکت ہے اس کو ہم اپنی خوشبو میں رکھیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے درست کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1198
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 2231»
حدیث نمبر: 1199
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَوَضَّأُ فِي الْحَرِّ فَيُمِرُّ يَدَيْهِ عَلَى إِبْطَيْهِ وَلَا يَنْقُضُ ذَلِكَ وُضُوءَهُ. ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گرمی میں وضو کرتے تو اپنے ہاتھ بغلوں پر پھیرتے اور یہ چیز ان کے وضو کو نہیں توڑتی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1199
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»