کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دھونے کی باریوں میں سے کسی ایک میں مٹی شامل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْحَافِظُ الزَّاهِدُ قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے برتن میں جب کتا منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی مرتبہ مٹی سے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِتُرَابٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی یا آخری مرتبہ مٹی سے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، ثنا قَتَادَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، السَّابِعَةُ بِالتُّرَابِ " وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ الْأُولَى بِالتُّرَابِ ⦗٣٦٧⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے اور ساتویں مرتبہ مٹی سے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " الْأُولَى بِالتُّرَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ نے اسی سند سے اسی طرح بیان کیا ہے مگر وہ کہتے ہیں: ”پہلی مرتبہ مٹی سے دھویا جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ مُعَاذٌ فَهُوَ حَسَنٌ لِأَنَّ التُّرَابَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَرْوِهِ ثِقَةٌ غَيْرُ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ كَمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ وَقَدْ ثَبَتَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرُ التُّرَابِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی مرتبہ مٹی سے (دھویا جائے)۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بھی نبی ﷺ سے مٹی کا ذکر کرتے ہیں۔
یہ حدیث غریب ہے، اگر معاذ نے اسے صحیح یاد رکھا ہے تو یہ حسن ہے، کیونکہ اس حدیث میں مٹی کا ذکر ابن سیرین کے سوا کسی ثقہ راوی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نہیں کیا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بھی نبی ﷺ سے مٹی کا ذکر کرتے ہیں۔
یہ حدیث غریب ہے، اگر معاذ نے اسے صحیح یاد رکھا ہے تو یہ حسن ہے، کیونکہ اس حدیث میں مٹی کا ذکر ابن سیرین کے سوا کسی ثقہ راوی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نہیں کیا۔
كَمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالِي وَالْكِلَابُ " وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الرِّعَاءِ وَكَلْبِ الصَّيْدِ وَقَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَالثَّامَنَةُ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَحْفَظُ مَنْ رَوَى الْحَدِيثَ فِي دَهْرِهِ فَرِوَايَتُهُ أَوْلَى وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَتْوَاهُ بِالسَّبْعِ كَمَا رَوَاهُ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ⦗٣٦٨⦘ خَطَأِ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الثَّلَاثِ وَعَبْدُ الْمَلِكِ لَا يُقْبَلُ مَنْهُ مَا يُخَالِفُ فِيهِ الثِّقَاتِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”میں کتوں کی پروا نہیں کرتا۔“ اور آپ ﷺ نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت والے کتے کی رخصت دے دی اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے صاف کرو۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں حدیث روایت کرنے والوں میں سب سے زیادہ حافظ تھے، اس لیے ان کی روایت اولیٰ ہے۔ حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سات مرتبہ (دھونے) کا فتویٰ اسی طرح نقل کیا ہے جس طرح انہوں نے روایت کیا، اور اس میں عبدالملک بن ابی سلیمان کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ والی روایت کے غلط ہونے کی دلیل ہے، اور عبدالملک کی وہ روایت قبول نہیں کی جاتی جس میں وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کرے۔ وباللہ التوفیق۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں حدیث روایت کرنے والوں میں سب سے زیادہ حافظ تھے، اس لیے ان کی روایت اولیٰ ہے۔ حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سات مرتبہ (دھونے) کا فتویٰ اسی طرح نقل کیا ہے جس طرح انہوں نے روایت کیا، اور اس میں عبدالملک بن ابی سلیمان کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ والی روایت کے غلط ہونے کی دلیل ہے، اور عبدالملک کی وہ روایت قبول نہیں کی جاتی جس میں وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کرے۔ وباللہ التوفیق۔