کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پانی تلاش کرنے کے بعد اس کے میسر نہ ہونے (دسترس میں نہ ہونے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى فَلَمْ يُفَسِّرْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے: ساری زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے، جب ہم پانی نہ پائیں، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں اور سورہ بقرہ کی آخری آیات خزانے کے گھر عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور نہ ہی میرے بعد۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِّيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ وَنَحْنُ دَاخِلُو الْمَدِينَةَ فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا رَأْسُهُ فِي حِجْرِي رَاقِدًا أَقْبَلَ أَبِي فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً وَقَالَ: أَحَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْمَاءَ فَلَمْ يَجِدُوا وَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ} [المائدة: ٦] إِلَى ذِكْرِ التَّيَمُّمِ، قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: لَقَدْ بَارَكَ اللهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَكَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بیداء جگہ پر میرا ہار گم ہو گیا اور ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے قیام کیا، اس دوران آپ ﷺ کا سر میری گود میں تھا اور آپ ﷺ سو رہے تھے، میرے والد آئے اور مجھے زور سے کونچا مارا اور فرمایا: آپ نے لوگوں کو ہار کی وجہ سے روک دیا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور نماز کا وقت ہو گیا، انہوں نے پانی تلاش کیا مگر پانی نہ ملا تو یہ آیتِ تیمم ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ﴾ [سورة المائدة: 6] نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے آلِ ابوبکر! تمہاری وجہ سے اللہ نے لوگوں میں برکت ڈال دی، تم تو باعثِ برکت ہو۔