کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد تیمم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1059
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ - أَوْ قَالَ: أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ - بِأَرْبَعٍ: أَرْسَلَنِي إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَجَعَلَ الْأَرْضَ كُلَّهَا لِي وَلِأُمَّتِي طَهُورًا وَمَسْجِدًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتِ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طُهُورُهُ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ يَسِيرُ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يُقْذَفُ فِي قُلُوبِ أَعْدَائِي وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی ہے یا فرمایا: میری امت دوسری امتوں پر چار وجہ سے فضیلت رکھتی ہے: اللہ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا اور اس نے تمام زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے پاک اور مسجد بنا دی ہے، میری امت میں سے جہاں بھی آدمی نماز کا وقت پالے تو اس کے پاس اس کی مسجد اور وضو ہے اور میں رعب سے مدد کیا گیا ہوں جو میرے آگے ایک ماہ کی مسافت سے چلتا ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالا جاتا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1059
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير 1/8»
حدیث نمبر: 1060
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: " وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ " قَالَ: " وَالْخَامِسَةُ قِيلَ لِي: ⦗٣٤١⦘ سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَهِيَ لَكُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سال رات کو نماز کے ساتھ قیام کیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات مجھ کو پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔۔۔ میرے لیے زمین مسجد اور وضو کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، جہاں نماز کا وقت ہو جائے، میں مسح کروں گا اور نماز پڑھ لوں گا“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچویں چیز جو مجھ سے کہی گئی: آپ سوال کریں، ہر نبی نے سوال کیا، میں نے اپنا سوال قیامت تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے، وہ تمہارے لیے ہو گا (یعنی امت کے لیے) اور وہ (سفارش) ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کی گواہی دیتا ہو گا“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1060
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه احمد 2/222»