کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارنے اور ناف میں انگلی داخل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ نَضَحَ الْمَاءَ فِي عَيْنَيْهِ، وَأَدْخَلَ إِصْبَعَهُ فِي سُرَّتِهِ " مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے کہ وہ جب غسلِ جنابت کرتے تو پانی کے چھینٹے آنکھوں میں مارتے اور اپنی انگلی ناف میں داخل کرتے۔
یہ روایت موقوف ہے۔
یہ روایت موقوف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ نَضَحَ فِي عَيْنَيْهِ الْمَاءَ "، قَالَ مَالِكٌ: " لَيْسَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْضَحَ فِي عَيْنَيْهِ، لِأَنَّهُمَا لَيْسَتَا ظَاهِرَتَيْنِ مِنْ بَدَنِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ سَنَدُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب غسلِ جنابت کرتے تو اپنی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارتے۔ (ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں ہے۔ (ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آنکھوں پر چھینٹے مارنا ضروری نہیں ہے، اس لیے کہ یہ بدن میں ظاہر نہیں ہیں۔ (د) شیخ کہتے ہیں: یہ روایت مرفوع بھی بیان کی گئی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔