أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَا: ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، أنا لَيْثٌ، أنبأ طَلْحَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ اسْتَقْبَلَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى أُذُنَيْهِ وَسَالِفَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
طلحہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنے سر کا مسح کرتے تو اپنے ہاتھوں کو سر کے سامنے سے شروع کرتے، یہاں تک کہ اس کو اپنے کانوں کے پیچھے تک لے جاتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَخْمَسِيُّ، ثنا أَبُو حَصِينٍ الْوَادِعِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ وَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى قَفَاهُ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: مَسَحَ رَأْسَهُ حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَهُوَ أَوَّلُ الْقَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمْرَارَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) طلحہ رحمہ اللہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے دیکھا، آپ ﷺ نے اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو گدی پر پھیرا۔
(ب) لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے سر کا مسح کیا اور گدی کے شروع حصے تک پہنچ گئے، لیکن گدی پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیا۔
(ب) لیث بن ابی سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے سر کا مسح کیا اور گدی کے شروع حصے تک پہنچ گئے، لیکن گدی پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیا۔
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو حَصِينٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو ⦗١٠٠⦘ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ مَسَحَ قَفَاهُ مَعَ رَأْسِهِ ". هَذَا مَوْقُوفٌ وَالْمُسْنَدُ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب اپنے سر کا مسح کرتے تھے تو اپنے سر کے ساتھ گدی کا بھی مسح کرتے تھے۔
(ب) یہ روایت موقوف ہے، اس کی سند میں ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔
(ب) یہ روایت موقوف ہے، اس کی سند میں ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔