أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ فَوْقِ الشَّعْرِ، كُلَّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ ". وَفِي رِوَايَةٍ غَيْرِهَا مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس وضو کیا تو اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے بالوں کے اوپر مکمل سر کا ہر بال اگنے کی جانب سے مسح کیا اور بالوں کو ان کی حالت سے ہلاتے نہیں تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ لَمْ يُقَلِّبْ شَعْرَهُ ". وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا وَحَدِيثُ الرُّبَيِّعِ مَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ، لَا يُقَلِّبُ الشَّعْرَ عَنْ مَجَارِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتے تو اپنے بالوں کو الٹ پلٹ نہیں کرتے تھے۔
(ب) ابو عبداللہ (امام احمد) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت اور سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا کی روایت کا معنی ایک ہی ہے کہ بالوں کو ان کی جگہ سے الٹ پلٹ نہیں کرتے تھے۔
(ب) ابو عبداللہ (امام احمد) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت اور سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا کی روایت کا معنی ایک ہی ہے کہ بالوں کو ان کی جگہ سے الٹ پلٹ نہیں کرتے تھے۔