حدیث نمبر: 244
حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، قَالَا: أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ بِشَيْءٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، وَرُوِّينَاهُ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے برتن منگوایا اور اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈال کر ان کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی، ناک جھاڑا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں کہ ان میں اپنے اندر کسی چیز کا خیال پیدا نہیں کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: ⦗٩٠⦘ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا، فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ انْضَمَّ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ، فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے قضائے حاجت کی، پھر پانی منگوایا، ہم آپ کے پاس برتن میں پانی لے کر آئے اور آپ کے سامنے رکھ دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابن عباس! کیا میں آپ کو نہ دکھلاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کیا کرتے تھے؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ تو انہوں نے برتن اپنے ہاتھ پر جھکایا اور ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، اس ہاتھ سے پانی دوسرے ہاتھ پر ڈالا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر اکٹھے اپنے ہاتھوں کو برتن میں داخل کیا اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ چلو لے کر اس کو اپنے منہ پر مارا، پھر اپنے انگوٹھے کان کی اگلی جانب داخل کیے، پھر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی ایسے ہی کیا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا چلو لیا تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا، پھر اس پانی کو چھوڑ دیا، پانی آپ کی پیشانی پر بہہ رہا تھا۔