حدیث نمبر: 229
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالُوا: أنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قُلْنَا لَهُ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهُمَا فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ⦗٨٤⦘ كِلَاهُمَا عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ كُلَّ مَرَّةٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غَرَفَاتٍ بِدَلِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہما بنی نجار قبیلے سے ہیں اور صحابی رسول ہیں، ہم نے ان سے کہا: ”ہمارے لیے نبی ﷺ جیسا وضو کریں۔“ انہوں نے پانی منگوایا اور اپنی ہتھیلیوں پر ڈالا، اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہاتھ سے ایسا تین مرتبہ کرتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے ہاتھوں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ایک مرتبہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ اس کے بعد اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا وضو اس طرح تھا۔“
(ب) عمرو بن یحییٰ کہتے ہیں: پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا۔ (واللہ اعلم) یعنی ہر مرتبہ کلی اور ناک میں پانی ایک ہی چلو سے ڈالا، پھر یہ تین مرتبہ کیا تین چلوؤں کے ساتھ۔
(ب) عمرو بن یحییٰ کہتے ہیں: پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا۔ (واللہ اعلم) یعنی ہر مرتبہ کلی اور ناک میں پانی ایک ہی چلو سے ڈالا، پھر یہ تین مرتبہ کیا تین چلوؤں کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 230
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ أَبِي حَسَنٍ، سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ ثَلَاثِ غُرَفٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدِهِ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ غَرَفَاتٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عمرو بن یحییٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن ابی حسن کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں پوچھا: انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر ان کے لیے وضو کیا، برتن سے اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے ہاتھوں کو دھویا، اس کے بعد اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین مرتبہ ناک جھاڑا اور یہ پانی کے تین چلوؤں سے کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے بازوؤں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے آئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
(ج) ایک روایت میں ہے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
(ج) ایک روایت میں ہے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
حدیث نمبر: 231
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی اکٹھے چڑھایا۔
حدیث نمبر: 232
أَخْبَرَنَا أَبُو الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا عَلِيٌّ وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد خیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نماز پڑھ چکے تھے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا... اس میں ہے کہ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا۔ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑا جس سے پانی لیا تھا۔
پھر طویل حدیث ذکر کی۔ اس کے آخر میں ہے: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ جانے تو یہ وہی (طریقہ) ہے۔
پھر طویل حدیث ذکر کی۔ اس کے آخر میں ہے: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ جانے تو یہ وہی (طریقہ) ہے۔
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْخَيْوَانِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا بِيَدٍ وَاحِدَةٍ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَعَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَلَا أَدْرِي أَدْبَرَ بِهِمَا أَمْ لَا؟ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد خیر خیوانی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے کرسی لائی گئی، آپ رضی اللہ عنہ اس پر بیٹھے، پھر پانی کا ایک برتن لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک پانی کے ساتھ کلی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا، پھر ایک ہاتھ سے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنا ہاتھ برتن میں رکھا، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر آگے سے پیچھے لے گئے اور معلوم نہیں کہ ہاتھوں کو پیچھے سے آگے لے آئے تھے یا نہیں اور اپنے پاؤں کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا: ”جس کو اچھا لگے کہ نبی ﷺ کے وضو کی طرف دیکھے تو یہی نبی ﷺ کا وضو ہے۔“