کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنے کا بیان سوائے اس کے کہ روزہ دار ہو
حدیث نمبر: 228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَشْيَاءَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کچھ چیزوں کا تذکرہ کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مکمل وضو کر اور انگلیوں کا خلال کر اور جب تو ناک میں پانی چڑھائے تو مبالغہ کر، سوائے اس کے کہ تو روزہ دار ہو (یعنی روزے کی حالت میں ایسا نہ کر)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 228
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 142»