أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّشٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہے کہ اس کو حاصل کرے گا یا عورت کی وجہ سے ہے کہ اس سے شادی کرے گا تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے اللہ کا نام نہ لیا (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی)۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، قَالَ: وَذَكَرَ رَبِيعَةُ أَنَّ تَفْسِيرَ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ". أَنَّهُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ وَيَغْتَسِلُ، وَلَا يَنْوِي وُضُوءًا لِلصَّلَاةِ، وَلَا غُسْلًا لِلْجَنَابَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی حدیث کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے اللہ کا نام نہ لیا،“ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو یا غسل کرے لیکن وضو میں نماز کی اور غسل میں پاکی کی نیت نہ کرے۔