کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: برتنوں کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم پر رسول اللہ ﷺ کا خط پڑھا گیا، اس میں تھا کہ ”تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ۔“
حدیث نمبر: 42
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ ⦗٢٣⦘ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ " أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم پر جہینہ نامی جگہ میں رسول اللہ ﷺ کا خط پڑھا گیا اور میں اس وقت نوجوان تھا، اس میں لکھا تھا کہ ”تم مردہ جانور کے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے۔“
حدیث نمبر: 43
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ - قَالَ الْحَكَمُ: فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ - فَخَرَجُوا إِلِيَّ فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُكَيْمٍ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ " أَلَّا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: قَبْلَ وَفَاتِهِ بِأَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَقِيلَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے ایک مہینہ پہلے جہینہ قبیلہ والوں کو لکھا کہ ”تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سند سے بھی وارد ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے وفات سے چالیس دن پہلے یہ خط لکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے جہینہ کے مشائخ نے ہمیں بتایا کہ نبی ﷺ نے انہیں خط لکھا، ان شاء اللہ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سند سے بھی وارد ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے وفات سے چالیس دن پہلے یہ خط لکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے جہینہ کے مشائخ نے ہمیں بتایا کہ نبی ﷺ نے انہیں خط لکھا، ان شاء اللہ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
حدیث نمبر: 44
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا يَعْنى يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ: حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ: جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَّا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ " فِي حَدِيثِ ثِقَاتِ النَّاسِ، حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ: " أَلَّا تَنْتَفِعُوا ". قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِهِ أَبُو زَكَرِيَّا رَحِمَهُ اللهُ: تَعْلِيلَ الْحَدِيثِ بِذَلِكَ وَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا قَبْلَ الدَّبْغِ بِدَلِيلِ مَا هُوَ أَصَحُّ مِنْهُ فِي الْأَبْوَابِ الَّتِي تَلِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط آیا (جس میں لکھا تھا) کہ تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ“، ایک اور قوی سند کے ساتھ ہمارے اصحاب نے ہم کو بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے لکھا: ”تم نفع نہ اٹھاؤ۔“
شیخ ابو زکریا رحمہ اللہ اسی حدیث کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ چمڑا رنگنے سے پہلے پر محمول ہے۔ اس کی دلیل اگلے ابواب میں صحیح (اسناد سے) وارد احادیث ہیں۔
شیخ ابو زکریا رحمہ اللہ اسی حدیث کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ چمڑا رنگنے سے پہلے پر محمول ہے۔ اس کی دلیل اگلے ابواب میں صحیح (اسناد سے) وارد احادیث ہیں۔