کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دیگر بہنے والی اشیاء کے بجائے صرف پانی سے نجاستیں دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 35
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، وَأَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَمَا، أَنَّهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَقَالَ: " لِتَحُتَّهُ، ثُمَّ لِتَقْرُصْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ، ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کپڑے کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو حیض کا خون لگ جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(عورت) اس کو کھرچ دے، پھر پانی کے ساتھ ملے، پھر اس کو جھاڑ کر اس میں نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 36
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ دَمِ الْحَيْضَةِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ: " حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ فَصَلِّ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے اس کپڑے کے بارے میں سوال کیا جس کو حیض کا خون لگ جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھرچ ڈال، پھر اس کو پانی کے ساتھ مل، پھر اس کو جھاڑ کر اس میں نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 37
وَأَنْبَأَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ ⦗٢١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ فَصَلِّي فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگ جاتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھرچ ڈال، پھر پانی کے ساتھ مل کر دھو دے، پھر اس کو جھاڑ کر اس میں نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 38
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَا كَانَتْ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا، ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم میں سے عورتوں کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا اور وہ اس میں حیض والی ہو جاتیں، اگر اس کپڑے کو خون لگ جاتا تو وہ اپنے لعاب سے کرتیں پھر اسے کھرچ دیتیں، پھر وہ (عورت) اس کو اپنے ناخن سے کھرچ دیتی۔
حدیث نمبر: 39
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قَدْ كَانَ يَكُونُ لِإِحْدَانَا الدِّرْعُ تَحِيضُ فِيهِ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ، ثُمَّ تَرَى فِيهِ قَطْرَةً مِنْ دَمٍ فَتَقْصَعُهُ بِرِيقِهَا، وَهَذَا فِي الدَّمِ الْيَسِيرِ الَّذِي يَكُونُ مَعْفُوًّا عَنْهُ، فَأَمَّا الْكَثِيرُ مِنْهُ فَصَحِيحٌ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُهُ، وَذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى "، ثُمَّ قَدْ رُوِيَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک عورت کے پاس لمبی قمیص ہوتی تھی جس میں اس کو حیض کا خون آجاتا یا وہ ناپاک ہو جاتی، پھر وہ اس میں خون کا قطرہ دیکھتی تو اس کو خشک ہونے پر سے کھرچ دیتی۔
(ب) اگر خون کم ہو تو وہ معاف ہے اور اگر زیادہ ہو تو صحیح یہ ہے کہ اس کو دھویا جائے۔ اس کے دلائل اپنے محل پر آئیں گے، ان شاء اللہ۔
(ب) اگر خون کم ہو تو وہ معاف ہے اور اگر زیادہ ہو تو صحیح یہ ہے کہ اس کو دھویا جائے۔ اس کے دلائل اپنے محل پر آئیں گے، ان شاء اللہ۔
حدیث نمبر: 40
مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " إِذَا حَكَّ أَحَدُكُمْ جِلْدَهُ فَلَا يَمْسَحْهُ بِرِيقِهِ فَإِنْهُ لَيْسَ بِطَاهِرٍ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: امْسَحْهُ بِمَاءٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ الرِّيقَ لَا يُطَهِّرُ الدَّمَ الْخَارِجَ مِنْهُ بِالْحَكِّ. ⦗٢٢⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " يَا عَمَّارُ، مَا نُخَامَتُكَ وَلَا دُمُوعُ عَيْنَيْكَ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الَّذِي فِي رِكْوَتِكَ. إِنَّمَا تَغْسِلُ ثَوْبَكَ مِنَ الْبَوْلِ، وَالْغَائِطِ، وَالْمَنِيِّ، وَالدَّمِ، وَالْقَيْءِ " فَهَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی جلد کو کھرچے تو خشک منی کو نہ چھوئے، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ کھرچنا اس خون (کی جگہ) کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ کھرچنا اس خون (کی جگہ) کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔