کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دھوپ میں گرم ہونے والے پانی سے پاکی حاصل کرنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ يَكْرَهُ الِاغْتِسَالَ بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ، وَقَالَ: " إِنَّهُ يُورِثُ الْبَرَصَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دھوپ سے گرم ہونے والے پانی سے غسل کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے: یہ برص (کوڑھ) کی بیماری کا باعث ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ الْعَبْدِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ حَسَّانَ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تَغْتَسِلُوا بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ، فَإِنْهُ يُورِثُ الْبَرَصَ " ⦗١١⦘ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسان ازہر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم دھوپ سے گرم ہونے والے پانی کے ساتھ غسل نہ کرو، یہ برص (کوڑھ) کی بیماری کا سبب ہے۔“
أَخْبَرْنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْمُعَدِّلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَسْخَنْتُ مَاءً فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلِي يَا حُمَيْرَاءُ، فَإِنَّهُ يُورِثُ الْبَرَصَ ". وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَتْرُوكٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ يَضَعُ الْحَدِيثَ عَلَى ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ مَعَ خَالِدٍ وَهْبُ بْنُ وَهْبٍ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ وَهُوَ شَرٌّ مِنْهُ قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرُوِي بِإِسْنَادٍ مُنْكَرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَلَا يَصِحُّ، وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْشَمُ، عَنْ فُلَيْحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْشَمُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرْوِهِ، عَنْ فُلَيْحٍ غَيْرُهُ، وَلَا يَصِحُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دھوپ سے پانی گرم کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے حمیرا! ایسا نہ کر، یہ برص کی بیماری کا سبب ہے۔“
شیخ احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت دوسری سند سے بھی نقل کی گئی ہے جو منکر ہے۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے، خالد بن اسماعیل متروک ہے اور ابن عدی کہتے ہیں: خالد بن اسماعیل ابو الولید مخزومی ثقہ مسلمانوں کے نام سے حدیثیں گھڑتا تھا۔
شیخ احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت دوسری سند سے بھی نقل کی گئی ہے جو منکر ہے۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے، خالد بن اسماعیل متروک ہے اور ابن عدی کہتے ہیں: خالد بن اسماعیل ابو الولید مخزومی ثقہ مسلمانوں کے نام سے حدیثیں گھڑتا تھا۔