❮
❯
حدیث نمبر: 21178
حافظ ثناء اللہ

«اَلسَّبَّاغُونَ»: ”وہ انسان جو بات میں الفاظ کو زائد بیان کرتا ہے اس کو مزین کرنے کے لیے۔“
«اَلصَّوَّاغُوْنَ»: ”ایسا انسان جو ایسی بات بیان کرے جس کی کوئی اصل نہ ہو۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْذَبُ النَّاسِ الصَّبَّاغُونَ وَالصَّوَّاغُونَ ". هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ، حَدِيثُ هَمَّامٍ عَنْ فَرْقَدٍ، وَأَخْطَأَ فِيهِ عَنْ بَعْضِهِمْ عَنْ هَمَّامٍ، فَقَالَ: عَنْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَكِلَاهُمَا بَاطِلٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقِيلَ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے «الصَّبَّاغُونَ» اور «الصَّوَّاغُونَ» ہیں۔“
یہی (روایت) محفوظ ہے، یعنی ہمام کی فرقد سے روایت۔ بعض راویوں نے ہمام سے اس میں غلطی کی اور کہا: ہمام عن قتادہ عن یزید، اور بعض نے کہا: ہمام عن قتادہ عن انس، اور یہ دونوں باطل ہیں۔ یہ ایک اور سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21178