السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَحْبُلٍ مَعَهُ، فَأَخَذَهَا، فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہمیں بیان کیا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے، (سفر میں تھے) ایک آدمی ان میں سے سو گیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک رسی پکڑی جس کے ذریعے اس کو ڈرایا، وہ گھبرا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» ”کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے۔“