السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما على من دعي ليشهد باب: جسے گواہی دینے کے لیے بلایا جائے اس پر کیا ذمہ داری لازم ہے۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: 282]..اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ ”اور جب گواہوں کو (گواہی کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔“ [سورة البقرة: 282]...
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ لِيَشْهَدَ، وَإِذَا دُعِيَ لِيُقِيمَهَا، كِلَاهُمَا "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ، عَنِ الْحَسَنِ: " فَإِنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ لَوْ أَبَوْا أَنْ يَشْهَدَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَمْ يَسَعْهُمْ ذَلِكَ ". وَقَدْ ذَهَبَ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ، وَالْآيَةُ مُحْتَمِلَةٌ لِلْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ، وَهُوَ فِي التَّحَمُّلِ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، فَإِذَا قَامَ بِهِ وَبِالْكِتَابَةِ مَنْ يَكْفِي أُخْرِجَ مَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمَأْثَمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.یونس بن عبید حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ (یہ حکم) دونوں صورتوں میں ہے: جب گواہ بننے کے لیے بلایا جائے اور جب گواہی ادا کرنے کے لیے بلایا جائے۔
نوٹ: دوسرے راوی حسن سے یہ اضافہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اگر تمام لوگ ایک دوسرے کے حق میں گواہی دینے سے انکار کر دیں تو ان کے لیے یہ جائز نہ ہوگا۔
مفسرین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ آیت گواہی ادا کرنے کے بارے میں ہے، اور آیت میں دونوں معنوں کا احتمال ہے، جیسا کہ حضرت حسن رحمہ اللہ کا موقف ہے۔ گواہ بننا فرضِ کفایہ ہے، جب اتنے لوگ اسے اور لکھنے کو انجام دے دیں جو کافی ہوں تو پیچھے رہنے والے گناہ سے نکل جاتے ہیں، واللہ اعلم۔