السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ولا يضار كاتب ولا شهيد باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
حدیث نمبر: 20602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ: " أَنْ يَجِيءَ فَيَدْعُوَ الْكَاتِبَ وَالشَّهِيدَ، فَيَقُولَانِ: إِنَّا عَلَى حَاجَةٍ فَيُضَارَّ بِهِمَا، فَقَالَ: قَدْ أُمِرْتُمَا أَنْ تُجِيبَا، فَلَا يُضَارَّهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ کو تکلیف نہ دی جائے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ گواہ اور کاتب کو طلب کیا جائے تو وہ کہیں: ہم مصروف ہیں، وہ کہتا ہے کہ تم کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تمہیں طلب کیا جائے تو ضرور آؤ۔ ان دونوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ [ضعیف]