السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كراهية التسارع إلى الشهادة وصاحبها بها عالم حتى يستشهده باب: گواہی دینے میں جلد بازی کرنے کی کراہت جبکہ گواہ کو اس کا علم ہو یہاں تک کہ اس سے گواہی طلب کی جائے۔
وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ ⦗٢٧٠⦘ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهُمُ السِّمَنُ". هَكَذَا رَوَاهُ سَائِرُ أَصْحَابِ هِشَامٍ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحَلِفِ، وَذِكْرُ الْحَلِفِ فِيهِ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ مُعَاذٌ يُوَافِقُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ فِي الشَّهَادَةِ أَنْ يَشْهَدَ بِمَا لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَعْلَمْهُ، فَيَكُونَ شَاهِدَ زُورٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَالْعِصْمَةُ.عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، جس میں میں مبعوث کیا گیا، پھر ان کے بعد والا، پھر ان کے بعد والا، پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے اور پوری نہ کریں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہ ہوں گے، گواہی دیں گے لیکن ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، ان میں موٹاپا عام ہوگا۔“ اس طرح ہشام کے تمام شاگرد نقل فرماتے ہیں لیکن قسم کا تذکرہ نہیں، اگر معاذ کو یاد ہو تو اس میں قسم کا تذکرہ ہے، وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی موافقت کرتے ہیں۔ شہادت سے مراد یہ ہے کہ اس کی شہادت دی جائے جو خلافِ گواہی نہ دے، وہ اس کو جانتا بھی نہ ہو تو یہ جھوٹی گواہی ہے۔