السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229].اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ ”اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو، سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس (مال) میں کوئی گناہ نہیں جو عورت (اپنی جان چھڑانے کے لیے) فدیہ میں دے دے۔“ [سورة البقرة: 229]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ هَذِهِ؟ " فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ " فَقَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَذْكُرَ "، فَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ " خُذْ مِنْهَا " فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا.سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ کہنے لگی: ”حبیبہ بنت سہل“، پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ کہتی ہیں کہ ”میں اور میرے خاوند ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔“ جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے وہ ذکر کیا ہے جو اللہ نے چاہا کہ وہ ذکر کرے۔“ حبیبہ کہنے لگیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جو اس نے مجھے دیا ہے وہ تمام مال میرے پاس موجود ہے“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثابت! مال اس سے لے لو“، تو انہوں نے لے لیا اور وہ اپنے اہل کے گھر بیٹھ گئی۔