السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما لا يجوز للمرأة أن تتزين به باب: ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ عورت کا زیب و زینت کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14835
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ " كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَغْرِزُ ظَهْرَ كَفِّهَا أَوْ مِعْصَمِهَا بِإِبْرَةٍ أَوْ مِسَلَّةٍ حَتَّى تُؤَثِّرَ فِيهِ ثُمَّ تَحْشُوهُ بِالْكُحْلِ أَوْ بِالنَّئُورِ فَيَخْضَرُّ يُقَالُ مِنْهُ وَشَمَتْ تَشِمُ وَشْمًا فَهِيَ وَشْمَةٌ وَالْأُخْرَى مَوْشُومَةٌ وَمُسْتَوْشِمَةٌ وَأَمَّا الْمُتَفَلِّجَاتُ فَهِيَ مِنْ تَفْلِيجِ الْأَسْنَانِ وَتَوْشِيرِهَا وَهُوَ أَنْ تُحَدِّدَهَا حَتَّى تَكُونَ فِي أَطْرَافِهَا رِقَّةٌ كَمَا تَكُونُ فِي أَسْنَانِ الْأَحْدَاثِ تَفْعَلُهُ الْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ الْمُتَشَبِّهَةُ بِأُولَئِكَ " هَذَا مَعْنَى قَوْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَبِي عُبَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنی ہتھیلی کے ظاہر یا کلائی میں سوئی سے زخم کر کے سرمے یا پاؤڈر سے بھر دے تو یہ سبز ہو جاتا ہے۔
«التَّفْلِيْجُ» دانتوں کو باریک کرنا، ان کو تیز کرنا تاکہ ان کی اطراف باریک ہو جائیں جیسے جوانی میں ہوتے ہیں۔ یہ بوڑھی عورت نوجوان لڑکیوں کی مشابہت کی غرض سے کرتی ہے۔ یہی ابوعبیدہ رحمہ اللہ اور ابوعبید رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ ہے۔