❮
❯
حدیث نمبر: 9987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَتَحَدَّثْنَا فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَامَ فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ تَلَبَّبَ بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ ثُمَّ شَرِبَ فَقَالُوا: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مَاءُ زَمْزَمَ، وَقَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ " قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ تُفْتَحَ مَكَّةُ إِلَى سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو " أَنِ اهْدِ لَنَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَلَا يَتِرُكَ "، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِمُزَادَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی جس کو گردن پر باندھ رکھا تھا اور ان کی چادر رکھی ہوئی تھی، پھر ان کے پاس ماء زمزم لایا گیا۔ انہوں نے اسے پیا، پھر دوبارہ پیا۔ لوگوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ ماء زمزم ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ» ”ماء زمزم جس غرض سے پیا جائے گا (وہی حاصل ہوگی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”ہمارے لیے ماء زمزم بھیجیں اور اسے بھولنا مت“، جبکہ آپ ﷺ مدینہ میں تھے، چنانچہ انہوں نے دو مشکیزے روانہ کیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9987
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه الترمذي 963۔ ابويعليٰ 4683»