السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرخصة في الخروج بماء زمزم باب: آبِ زمزم کو (حرم سے) باہر لے جانے کی رخصت کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْمَاءُ لَيْسَ بِشَيْءٍ يَزُولُ فَلَا يَعُودُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس (زمزم کے پانی) میں سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے (مزید) فرمایا: ”اور پانی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ختم ہو جائے تو پھر دوبارہ نہ آئے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٣١⦘ مُحَيْصِنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَهْدَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی جس کو گردن پر باندھ رکھا تھا اور ان کی چادر رکھی ہوئی تھی، پھر ان کے پاس ماء زمزم لایا گیا۔ انہوں نے اسے بار بار پیا۔ انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ کسی نے کہا: یہ ماء زمزم ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ» ”ماء زمزم جس غرض سے پیا جائے گا (وہی حاصل ہوگی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”ہمارے لیے ماء زمزم بھیجیں اور اسے بھولنا مت“، جبکہ آپ ﷺ مدینہ میں تھے، چنانچہ انہوں نے دو مشکیزے روانہ کیے۔