السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9930
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ يَقُولُ فِي الْحَدِيثِ: أَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: يَقْطُرُ دَمًا، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ، وَكَانَ سُفْيَانُ فِيمَا خَلَا رُبَّمَا قَالَ: حِمَارَ وَحْشٍ، ثُمَّ صَارَ إِلَى لَحْمٍ حَتَّى مَاتَ.حافظ ثناء اللہ
ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان اس حدیث میں کہا کرتے تھے: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں پیش کیا“، اور بعض اوقات سفیان کہتے کہ ”اس سے خون ٹپک رہا تھا“ اور بعض اوقات یہ نہ کہتے، اور پہلے زمانے میں سفیان بعض اوقات ”نیل گائے“ کہتے تھے، پھر ”گوشت“ کہنے لگے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔