السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9929
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَوْدًا وَبَدْءًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي وَهُوَ سَمَاعُ الْحُمَيْدِيِّ مِنْ سُفْيَانَ فِيمَا خَلَا ثُمَّ اضْطَرَبَ فِيهِ بَعْدُ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر موجود تھا، میں نے آپ ﷺ کو نیل گائے تحفہ میں دی، آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا، جب آپ ﷺ نے میرے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہماری طرف سے تمہیں کوئی رد نہیں، لیکن ہم محرم ہیں۔“
میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ حمیدی کا سفیان سے پہلے زمانے کا سماع ہے، پھر بعد میں سفیان اس میں اضطراب کا شکار ہو گئے۔