السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما لا يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو نہیں کھا سکتا اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ "، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ اصْطَدْتُهُ لَكَ وَقَوْلُهُ: وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَعْمَرٍ وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ..عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا، میں نے ایک نیل گائے دیکھی، اس پر حملہ کر کے شکار کر لیا، میں نے اس کی حالت کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا اور میں نے بتایا کہ میں نے احرام نہیں باندھا تھا اور یہ شکار میں نے صرف آپ کے لیے کیا ہے۔ نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا تو انہوں نے کھایا، لیکن جب میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ میں نے یہ شکار آپ کے لیے کیا ہے تو آپ ﷺ نے اس سے نہ کھایا۔
علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نیشاپوری رحمہ اللہ نے ہم سے کہا: ان کا یہ قول کہ ”میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے“ اور یہ قول کہ ”آپ ﷺ نے اس سے نہ کھایا“، میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں معمر سے یہ ذکر کیا ہو، اور یہ اس روایت کے موافق ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔