السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما لا يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو نہیں کھا سکتا اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمْ سَوْطًا، ثُمَّ حَمَلَ عَلَى الْحِمَارِ فَصَرَعَهُ فَأَتَاهُمْ بِهِ فَأَكَلُوا وَحَمَلُوا فَلَقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَدَّهُ بِشَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَكُلُوا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ محرم لوگوں کی ایک جماعت میں تھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ حلال تھے۔ لوگوں نے ایک نیل گائے دیکھی۔ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ دی حتیٰ کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود دیکھ لیا۔ انہوں نے ان میں سے کسی کا کوڑا اچک لیا، پھر اس پر حملہ کر کے اس کو گرا لیا۔ وہ اسے ان کے پاس لے کر آئے۔ انہوں نے کھایا اور اپنے ساتھ بھی لے لیا اور نبی ﷺ سے اس کے بارے میں سوال بھی کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس کی طرف اشارہ کیا یا کسی چیز سے اس کی مدد کی؟“ انہوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کھاؤ۔“