السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما لا يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو نہیں کھا سکتا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذِهِ لَفْظَةٌ غَرِيبَةٌ، لَمْ نَكْتُبْهَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْهَا وَتِلْكَ الرِّوَايَةُ أَوْدَعَهَا صَاحِبَا الصَّحِيحِ كِتَابَيْهِمَا دُونَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ وَإِنْ كَانَ الْإِسْنَادَانِ صَحِيحَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً (عبدالرزاق سے ایک دوسری سند کے ساتھ)۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ غریب ہیں، ہم نے انہیں صرف اسی سند سے لکھا ہے۔ ہم نے ابوحازم بن دینار کے واسطے سے عبداللہ بن ابی قتادہ سے اس حدیث میں روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس سے کھایا، اور صحیح کے دونوں مصنفین نے معمر کی روایت کے بجائے اسی روایت کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، اگرچہ دونوں سندیں صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔