❮
❯
حدیث نمبر: 9917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ وَأَنَا مَعَهُمْ، قَالَ: " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي "، فَأَخَذْنَا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَبْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ غَيْرَ أَبِي قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ رَأَيْنَا حُمْرَ وَحْشٍ فَعَقَرْتُ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا فَقَالُوا: نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا حَتَّى أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا كُنَّا قَدْ أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمْرَ وَحْشٍ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ⦗٣١٠⦘ فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ حَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟ "، فَقَالُوا: لَا، قَالَ: " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُقْرِئِ: " أَوْ مُعْتَمِرًا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كَامِلٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج یا عمرہ کرنے کے لیے نکلے، ہم بھی ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے ایک گروہ کو دوسرے راستے پر پھیر دیا، میں بھی ان کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ساحلِ سمندر کے راستے چلو، یہاں تک کہ تم مجھ سے ملو۔“ ہم ساحلِ سمندر کے راستے پر چل پڑے۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس ہوئے تو سب نے احرام باندھ لیا تھا، سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے۔ ہم چل رہے تھے کہ اچانک ہم نے نیل گائے دیکھیں۔ میں نے ان میں سے ایک مادہ کی کونچیں کاٹ دیں، وہ سب اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ انہوں نے کہا: ”ہم حالتِ احرام میں شکار کا گوشت کھا رہے ہیں۔“ وہ باقی ماندہ گوشت اٹھا کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ہم نے احرام باندھ رکھا تھا اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا، ہم نے نیل گائے دیکھیں تو انہوں نے ان میں سے ایک مادہ کی کونچیں کاٹ دیں، ہم نے اتر کر اس کا گوشت کھایا، پھر باقی ماندہ گوشت اٹھا لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے اس پر حملہ کرنے کا کہا یا اس کی طرف اشارہ کیا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو گوشت باقی بچا ہے کھاؤ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9917
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1196»