السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْجَلَابَاذِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِّ، قَالَ: " كُنَّا نَأْكُلُ لَحْمَ الصَّيْدِ وَنَتَزَوَّدُهُ وَنَأْكُلُهُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ بِمَعْنَاهُ.عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج یا عمرہ کرنے کے لیے نکلے، ہم بھی ساتھ تھے۔ ایک گروہ پھر گیا، میں بھی ان کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ساحلِ سمندر کے راستے چلو، یہاں تک کہ تم مجھ سے ملو۔“ ہم ساحلِ سمندر کے راستے پر چل پڑے۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے تو سب حالتِ احرام میں تھے، سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے۔ ہم چل رہے تھے کہ اچانک ہم نے نیل گائے دیکھی۔ میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ سب اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ انہوں نے کہا: ”ہم حالتِ احرام میں شکار کا گوشت کھا رہے ہیں۔“ وہ باقی ماندہ گوشت اٹھا کر آپ ﷺ کے پاس آئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس پر ابھارا یا اشارہ کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو گوشت باقی بچا ہے کھاؤ۔“