کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضُ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مکہ کے کسی راستے میں تھے، وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور وہ (خود) محرم نہ تھے، انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، وہ اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا ہی پکڑا دو، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے نیزہ مانگا تب بھی انہوں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ خود پکڑا اور سوار ہو گئے، انہوں نے جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اس کو قتل کر دیا، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس میں سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کر دیا، جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو کھانا ہے جو اللہ رب العزت نے تمہیں کھلایا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9904
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5172»
حدیث نمبر: 9905
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى الزَّاهِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث کی سند ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9905
حدیث نمبر: 9906
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے وحشی گدھے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، ابو النضر کی حدیث کی طرح، لیکن زید کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کوئی گوشت ہے؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9906
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر ماقبله»
حدیث نمبر: 9907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ، وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَرَكِبْتُ فَأَخَذْتُ رُمْحِي فَسَقَطَتْ سَوْطِي فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: نَاوِلُونِي، وَكَانُوا مُحْرِمِينَ فَقَالُوا: لَا وَاللهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَتَنَاوَلْتُ سَوْطِي، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ ⦗٣٠٧⦘ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، جب ہم قاحہ نامی جگہ پر آئے تو ہمارے بعض ساتھی محرم تھے اور بعض غیر محرم تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں، میں نے بھی دیکھا تو وہ نیل گائے تھی۔ میں نے گھوڑے کی زین کسی اور میں سوار ہو گیا، میں نے اپنا نیزہ پکڑ لیا اور کوڑا گر گیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے پکڑا دو اور وہ محرم تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تیری مدد ہرگز نہ کریں گے۔ میں نے اپنا کوڑا پکڑا، پھر گدھے کے پیچھے ہو لیا، جو ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، میں نے اس کو نیزہ مارا اور میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ میں اس کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، بعض تو کہنے لگے: کھالو اور بعض نے کہا: مت کھاؤ اور رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو پا لیا اور سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلال ہے، تم کھالو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9907
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1727»
حدیث نمبر: 9908
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ مَعَ أَصْحَابِي فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ يَعْنِي فَانْطَلَقْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي فَأَطْلُبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ غِفَارٍ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: بِالسُّقْيَا يَعْنِي فَلَحِقْتُ بِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَقَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ: " " كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حدیبیہ والے سال نبی ﷺ کے ساتھ چلے۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا جبکہ میں محرم نہ تھا۔ نبی ﷺ چلے اور میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو ہنسا رہے تھے۔ میں نے دیکھا، اچانک نیل گائے تھی۔ میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی سواری پر بیٹھ گیا، میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے کھایا اور ہم ڈر بھی گئے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور نبی ﷺ تک پہنچ گیا، میں غفار قبیلہ کے ایک شخص کو نصف رات کو ملا۔ میں نے کہا: آپ نے نبی ﷺ کو کہاں چھوڑا؟ اس نے کہا: ”سقیا“ نامی جگہ پر میں آپ ﷺ سے ملا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ پر سلام کہتے ہیں اور وہ ڈر محسوس کر رہے ہیں کہ کہیں آپ ﷺ کے بغیر ان کو نقصان نہ ہو جائے، آپ ﷺ ان کا انتظار کر لیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے نیل گائے پکڑی، اس کا کچھ زائد گوشت میرے پاس موجود بھی ہے، آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ۔“ حالانکہ وہ حالتِ احرام میں تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9908
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1725»
حدیث نمبر: 9909
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، قَالَ: فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى فَرَسِي فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُهُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا وَرَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ أَجُرُّهُ قَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَّأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَكَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى تَعَرَّقَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ کے راستے پر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے تھے۔ لوگ حالتِ احرام میں تھے اور میں محرم نہ تھا۔ لوگوں نے نیل گائے دیکھی اور میں اپنی جوتی سی رہا تھا۔ انہوں نے مجھے اطلاع نہ دی۔ میں نے اچانک دیکھا تو میں اپنے گھوڑے کی طرف کھڑا ہوا اور زین کسی اور سوار ہو گیا اور اپنے کوڑے اور نیزے کو بھول گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا کوڑا اور نیزہ پکڑا دو۔ انہوں نے کہا: ہم تیری کچھ بھی مدد نہ کریں گے۔ میں نے نیچے اتر کر پکڑ لیا اور مضبوطی سے سوار ہوا۔ میں نے اس کو قتل کر دیا اور کھینچ کر اس کو لے کر آیا وہ مر گئی۔ وہ اس میں واقع ہو گئے۔ اس کو کھا رہے تھے۔ پھر ان کو اپنے کھانے میں شک گزرا؛ کیونکہ وہ محرم تھے۔ ہم چلے اور میں نے اس کا ایک بازو چھپا لیا۔ ہم نبی ﷺ تک جا پہنچے اور اس کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز اس سے ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ ﷺ کو اس کا بازو دیا تو آپ ﷺ نے کھا لیا؛ حالانکہ آپ ﷺ حالتِ احرام میں تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ہڈی سے گوشت کو اتارا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9909
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2431»
حدیث نمبر: 9910
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا ⦗٣٠٨⦘ يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ عَلِيٌّ: ثنا وَقَالَ، إِبْرَاهِيمُ: أنبأ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ التَّيْمِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَأَهْدَوْا لَنَا لَحْمَ صَيْدٍ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَ لِلَّذِينَ أَكَلُوا: " أَصَبْتُمْ "، وَقَالَ لِلَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا: " أَخْطَأْتُمْ، فَإِنَّا قَدْ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حُرُمٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی عثمان تیمی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کے راستے پر تھے اور ہم حالتِ احرام میں تھے۔ انہوں نے ہمیں شکار کے گوشت کا تحفہ دیا اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے۔ بعض نے کھا لیا اور بعض نے نہ کھایا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ جب طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو جنہوں نے کھایا تھا ان سے کہا کہ تم نے درست کام کیا ہے، اور جنہوں نے نہ کھایا تھا ان سے کہنے لگے کہ تم نے غلطی کی ہے، ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ شکار کا گوشت کھایا تھا جب ہم حالتِ احرام میں تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9910
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 197»
حدیث نمبر: 9911
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي بَعْضِ وَادِي الرَّوْحَاءِ وَجَدَ النَّاسُ حِمَارَ وَحْشٍ عَقِيرًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ذَرُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ صَاحِبُهُ " فَأَتَى الْبَهْزِيُّ وَكَانَ صَاحِبَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأَبْوَاءِ فَإِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ وَفِيهِ سَهْمٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُقِيمُ عِنْدَهُ حَتَّى يُجِيزَ النَّاسَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن سلمہ بہز قبیلہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نکلے، مکہ کا ارادہ تھا۔ جب وادی روحا میں آئے تو لوگوں نے ایک نیل گائے زخمی دیکھی۔ انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ، اس کا زخمی کرنے والا آ ہی جائے گا۔“ تو بہزی آ گئے، جنہوں نے زخمی کیا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ حالانکہ وہ محرم تھے، پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ابواء نامی جگہ آ گئے۔ اچانک ہرن درخت کے سائے کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اس میں تیر بھی تھا۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اس کے پاس ٹھہر جائے تاکہ لوگ گزر جائیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9911
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه النسائي 4344۔ احمد 3/ 418»
حدیث نمبر: 9912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ لَحْمٍ اصْطِيدَ لِغَيْرِهِمْ أَيَأْكُلُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، فَأَفْتَيْتُهُ أَنْ يَأْكُلَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بِمَا أَفْتَيْتَ؟ فَقُلْتُ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، قَالَ: " لَوْ أَفْتَيْتَهُ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَعَلَوْتُ رَأْسَكَ بِالدِّرَّةِ "، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا نُهِيتَ أَنْ تَصْطَادَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک آدمی نے مجھ سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا جو دوسروں کے لیے تھا، کیا وہ اس سے کھا لے جبکہ وہ حالتِ احرام میں ہو؟ میں نے اس کو فتویٰ دیا کہ وہ کھا لے۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ تو انہوں نے پوچھا: تو نے کیا فتویٰ دیا ہے؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے علاوہ کوئی دوسرا فتویٰ دیتا تو میں تجھے کوڑے مارتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے صرف شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9912
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8344»
حدیث نمبر: 9913
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ لَحْمِ الصَّيْدِ يُهْدِيهِ الْحَلَالُ لِلْحَرَامِ، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ "، قُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ نَفْسِكَ أَتَأْكُلُهُ؟، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ "، قُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ نَفْسِكَ أَتَأْكُلُهُ؟، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيْرًا مِنِّي ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالشعثاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا کہ حلال آدمی محرم کو ہدیہ دے؟ فرمانے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھا لیتے تھے، میں نے کہا: میں آپ کے متعلق سوال کر رہا ہوں کیا آپ کھا لیتے ہیں؟ فرمانے لگے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9913
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9914
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدَهُ أُنَاسٌ أَحِلَّةٌ أَيَأْكُلُونَهُ؟ فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: " لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَأَوْجَعْتُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک محرم جماعت مقامِ ربذہ سے گزری تو انہوں نے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، جسے حلال (غیر محرم) لوگوں نے پایا تھا، کہ کیا وہ اسے کھا لیں؟ تو انہوں نے اس کے کھانے کا فتویٰ دیا، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے: تم نے انہیں کیا فتویٰ دیا ہے؟ کہتے ہیں: میں نے انہیں کھانے کا فتویٰ دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر تم اس کے سوا کوئی دوسرا فتویٰ دیتے تو میں تمہیں تکلیف دیتا۔
(ب) عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کعب احبار رحمہ اللہ شام سے محرم آدمیوں کے قافلہ میں آئے، ابھی وہ کسی راستے میں ہی تھے کہ انہوں نے شکار کا گوشت پا لیا تو کعب رحمہ اللہ نے انہیں اسے کھانے کا فتویٰ دے دیا، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، انہوں نے پوچھا: کس نے تمہیں اس کے بارے میں فتویٰ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: کعب نے۔ فرمانے لگے: میں نے کعب کو تمہارا امیر مقرر کر دیا ہے جب تک کہ تم واپس آؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9914
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 783»
حدیث نمبر: 9915
وَبِإِسْنَادِهِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَتَزَوَّدُ صَفِيفَ الظِّبَاءِ فِي الْإِحْرَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد، دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم شکار کا گوشت کھاتے بھی تھے اور زادِ راہ کے طور پر ساتھ بھی لیتے تھے اور ہم حالتِ احرام میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9915
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل۔ في اللسان 3/ 121»
حدیث نمبر: 9916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْجَلَابَاذِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِّ، قَالَ: " كُنَّا نَأْكُلُ لَحْمَ الصَّيْدِ وَنَتَزَوَّدُهُ وَنَأْكُلُهُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج یا عمرہ کرنے کے لیے نکلے، ہم بھی ساتھ تھے۔ ایک گروہ پھر گیا، میں بھی ان کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ساحلِ سمندر کے راستے چلو، یہاں تک کہ تم مجھ سے ملو۔“ ہم ساحلِ سمندر کے راستے پر چل پڑے۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے تو سب حالتِ احرام میں تھے، سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے۔ ہم چل رہے تھے کہ اچانک ہم نے نیل گائے دیکھی۔ میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ سب اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ انہوں نے کہا: ”ہم حالتِ احرام میں شکار کا گوشت کھا رہے ہیں۔“ وہ باقی ماندہ گوشت اٹھا کر آپ ﷺ کے پاس آئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس پر ابھارا یا اشارہ کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو گوشت باقی بچا ہے کھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9916
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1728»