السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ لَحْمٍ اصْطِيدَ لِغَيْرِهِمْ أَيَأْكُلُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، فَأَفْتَيْتُهُ أَنْ يَأْكُلَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بِمَا أَفْتَيْتَ؟ فَقُلْتُ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، قَالَ: " لَوْ أَفْتَيْتَهُ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَعَلَوْتُ رَأْسَكَ بِالدِّرَّةِ "، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا نُهِيتَ أَنْ تَصْطَادَهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک آدمی نے مجھ سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا جو دوسروں کے لیے تھا، کیا وہ اس سے کھا لے جبکہ وہ حالتِ احرام میں ہو؟ میں نے اس کو فتویٰ دیا کہ وہ کھا لے۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ تو انہوں نے پوچھا: تو نے کیا فتویٰ دیا ہے؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے علاوہ کوئی دوسرا فتویٰ دیتا تو میں تجھے کوڑے مارتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے صرف شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔